خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 464 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 464

خطبات طاہر جلد 14 464 خطبہ جمعہ 30 جون 1995ء سے بھی تاریخی دن ہے کہ اس سے پہلے اگر چہ باقی ارد گرد کے ممالک میں تو ٹیلی ویژن کے ذریعے آپ سے رابطہ قائم ہو گیا تھا مگر ان کے لئے کچھ وقتیں تھیں جس کی وجہ سے اب تک وہ ٹیلی ویژن کے ذریعے عالمی احمد یہ سروس میں شامل نہیں ہو سکتے تھے کہتے ہیں آج پہلی دفعہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری وقتیں دور ہوگئی ہیں اور ہم اس وقت ایم ٹی اے کے ذریعے آپ لوگوں کو دیکھ رہے ہیں اور جو پہلے پروگرام جاری ہوئے تھے وہ شامل ہیں اس میں اور اب جو خطبہ ہو رہا ہے کہتے ہیں اس کو بھی ہم دیکھ رہے ہوں گے۔اس لئے خصوصیت سے آپ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے دیکھیں اور السلام علیکم کہیں۔پس میں آپ سب کو محمد اکرم صاحب عمر جوامیر ہیں گوئٹے مالا کے، ان کو بھی ڈاکٹر جمال الدین صاحب ضیاء کو بھی طوماس لوئیس جو مقامی احمدی ہیں، ماشاء اللہ مخلص ہیں اکرم خالد صاحب،لوکاس صاحب ، طاہر عبداللہ اور ان کے بیٹے جو امریکہ سے یہاں آئے ہوئے ہیں ، اس وقت USA میں آئے ہوئے ہیں اور ڈش انٹینا ٹھیک کروانے میں ان کی کوششوں کا بڑا کام ہے۔اسی طرح بیجی رشید صاحب ہیں وہاں مستورات ہیں، بچگان ہیں ان سب کو میں اپنی طرف سے بھی اور آپ سب کی طرف سے بھی محبت بھر اسلام پیش کرتا ہوں اور اس عالمی تقریب میں شمولیت پر مبارک باد دیتا ہوں۔اسی طرح روز مرہ اللہ کے فضل سے یہ سلسلہ پھیلتا جارہا ہے۔صرف احمدیوں میں ہی نہیں بلکہ غیر احمدیوں میں بھی ایم ٹی اے کی مقبولیت بہت بڑھ رہی ہے اور اس کے نتیجے میں پھر مخالفتیں بھی شروع ہو گئی ہیں۔ایسے ممالک میں جہاں اخبارات میں احمدیت کا ذکر ہی کوئی نہیں آتا تھا جب سے لوگوں نے ایم ٹی اے کے ذریعے رابطہ قائم کیا ہے اور اپنے تاثرات ماحول میں بیان کرنے لگے ہیں اس وقت سے وہاں بھی مخالفتوں کا زور اٹھ کھڑا ہوا ہے اور یہ جو پہلو ہے تبلیغ اور مخالفت کا یہی وہ پہلو ہے جو اس آیت کریمہ میں بیان ہوا ہے اور اس کے فوائد پر بھی اسی آیت نے روشنی ڈالی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَالَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِهَا بظاہر تو لفظی ترجمہ ماضی کا ہے کہ اللہ نے آسمان سے پانی اُتارا اگر اگلا مضمون بتارہا ہے کہ یہ ایک جاری سنت کا ذکر ہے اس لئے یہاں یہ ترجمہ کرنا صرف جائز بلکہ سیاق وسباق کے عین مطابق ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے پانی اُتارا ہے۔فَسَالَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِهَا وادیاں اپنے اپنے ظرف کے مطابق بھر جاتی ہیں اور بہہ پڑتی ہیں۔جب کہا جاتا ہے کہ آنکھیں جاری ہوگئیں تو مراد یہ ہے کہ آنکھوں سے آنسو جاری