خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 42
خطبات طاہر جلد 14 42 خطبہ جمعہ 20 جنوری 1995ء سرشت مطالبہ کرتی ہے کہ ایک تازہ عذاب کا نمونہ دکھایا جائے۔یہ مراد نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی پرانی غلطی کے نتیجے میں ان کو سزا دینا بند ہی نہیں کیا ان کی نئی نسلیں پیدا ہوئیں اور پھر ان کو سزادی گئی پھر اور نسلیں پیدا ہوئیں پھر ان کو سزادی گئی۔قیامت تک اللہ کے انتقام کی پیاس بجھ ہی نہیں رہی یہ ایک جاہلانہ تصور ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں ہو سکتا۔اللہ تعالیٰ واضح طور پر قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ ہم ظلم نہیں کرتے بلکہ جن لوگوں سے ہم انتقام لیتے ہیں وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں۔تو اس لئے میں بنگلہ دیش کے متعلق یہ دعا کی طرف متوجہ کر رہا ہوں کہ بعض غلطیاں ایسی قوم کر بیٹھتی ہے جس کے بعد قوم کے لئے ان کا ازالہ ممکن نہیں رہتا اور وہ غلطیاں ایک مستقل رنگ پکڑ جاتی ہیں جس کے داغ دھوئے نہیں جاسکتے۔اب پاکستان میں جو حرکت ہوئی احمد یوں کو ایک دفعہ غیر مسلم قرار دیا گیا حالانکہ اسمبلیوں کا کام نہیں تھا۔اب اس ظلم اور سفا کی کو کالعدم کرنے کی کسی میں طاقت نہیں رہی اور وہ مستقل ساتھ ایک جاری جرم ہے جو اپنی سزا کے مطالبے ہر وقت کرتا رہتا ہے ہر نئی نسل اس جرم پر صاد کر رہی ہے اور اس کو بدلنے کا تصور بھی کوئی حاکم وقت نہیں کر سکتا۔یہ ظلم کی جو جاری صورت ہے، یہ ایک جاری عذاب اور خدا تعالیٰ کی جاری ناراضگی کا مطالبہ کرتی ہے۔پس اس پہلو سے اب تک تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے بنگلہ دیش کو اس قسم کی حماقت سے باز رکھا ہے اور کئی دفعہ معلوم ہوتا ہے کہ اب وہ حکومت کچھ کر گزرنے پر تلی بیٹھی ہے۔لیکن پھر خدا تعالیٰ وہ تو فیق ان سے واپس لے لیتا ہے یا چھین لیتا ہے۔یہ اللہ کا احسان ہے۔میری دعا یہ ہے کہ یہ جاری وساری رہے یہ احسان کا طریق۔اس قوم کو کسی ایسے جرم کی توفیق نہ ملے جس کے نتیجے میں پھر سزائیں لازماً ان کے پیچھے پڑ جائیں گی۔پہلے ہی غریب لوگ ہیں ، مصیبت زدہ ہیں، آئے دن کئی قسم کے مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اوپر سے یہ ظلم بھی اگر وہ سہیڑ بیٹھے تو اس قوم کے لئے بہت بڑی تباہی ہوگی۔اسی طرح دوسرے ممالک بھی جہاں اس قسم کی سوچیں ابھرتی رہتی ہیں اور ہر طرف سے عالمی سازشوں کے نتیجے میں اور ممالک میں وہی حرکتیں دہرانے کی کوشش کی جاتی ہے جو پاکستان میں ہو چکی ہیں ان کو بھی اللہ تعالیٰ اپنی حفاظت میں رکھے اور بے وقوفیوں سے باز رہنے کی توفیق بخشے۔یہ آیت جو میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی تھی اس کا تعلق صرف کسی ایک نکاح سے نہیں