خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 458 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 458

خطبات طاہر جلد 14 458 خطبہ جمعہ 23 / جون 1995ء گیا ہے تمہیں کیا ہو گیا ہے۔ایک طرف کہتے ہو چھوٹی سی جماعت ہے تمیں لا کھ تو در کنار ایک لاکھ بھی نہیں ہے۔یہ آفیشل ان کی اطلاعیں تھیں جو غیر قوموں کو دے رہے تھے، اب تمہیں لاکھ پر تو ہمیں کوئی اصرار نہیں ، تین لاکھ بھی ہوں اس سے کوئی بحث نہیں۔جتنے تھوڑے تھے اتنا ہی ثبوت ہے کہ یہ ہمیں حق سمجھ رہے ہیں، جتنے تھوڑے تھے اتنا ہی زیادہ ان کا خوف ان کو ملزم کر رہا تھا۔تو جب یہ سوال کیا گیا یہ تھوڑے سے ہیں تمہیں کیا تکلیف ہے۔تو انہوں نے کہا ہمیں غصہ دلاتے ہیں، بڑی مصیبت ہے۔چھوٹے سے ہیں تھوڑے سے، حیثیت ہی کوئی نہیں۔وہ غصہ دلانے میں بڑا شیر ہے۔غصہ دلاتے کیسے ہیں۔کہتے ہیں وہ غالب آجائیں گے اور آرہے ہیں، یہ بات تھی جو تکلیف دیتی تھی۔تھوڑے ہیں، کمزور ہیں، حیثیت نہیں آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں لیکن غالب آنے کے ذریعہ غصہ دلاتے ہیں۔سارا زور اس بات پر تھا کہ جب بھی ہم ان سے ٹکرائے ہیں یہ بڑھے ہیں اور ہم کم ہوئے ہیں۔تمام نفسیات ملاں کی اسی ایک مرکزی نقطے کے گرد گھومتی ہے۔ہر دفعہ اس نے کوشش کی کہ کسی طرح کا حق کا بڑھنا اور باطل کا بھا گنا یہ جو تقدیر ہے اس کو الٹ کے رکھ دیں۔کسی طرح کوئی ایسا ذریعہ اختیار کریں کہ حق کا آگے بڑھنا بند ہو جائے اور باطل کا پیچھے ہٹنا رک جائے لیکن ہر تدبیر الٹی پڑتی ہے۔یہاں تک کہ 1974 ء آ گیا۔یہ اعلان کر دیا گیا کہ احمدی سارے غیر مسلم ہیں۔ہم 72 ایک طرف یہ ایک طرف۔تو میں جو سمجھتارہا ہوں کہ قرآن کریم کی آیت کی صداقت کا نشان یہ ہے کہ بظاہر کمزوری میں بھی ایک ایسا حق کی عظمت کا نشان ہے کہ یقیناً کہا جا سکتا ہے جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ حق آ گیا اور باطل بھاگ گیا کیونکہ یہ بھاگنے کے پیش خیمے ہی تو ہیں۔یہ پیش بندیاں کرنا یہ قانونی طور پر روکیں کھڑی کرنا، یہ مخالفتوں کی دیواریں کھڑی کرنا ظلم تعدی اور استبداد کے ذریعہ ایک بڑھتی نشو ونما ہوتی ہوئی قوم کو کچل کے رکھ دینے کی کوشش کرنا، پاؤں تلے روندنے کی کوشش کرنا کس بات کا خوف ہے؟ ہر دل گواہ تھا آج بھی ہے۔یہ تمام مولوی جانتے ہیں کہ اگر حکومت کے ہمیں سہارے حاصل نہ ہوں اگر ہمیں جھوٹ کے سہارے حاصل نہ ہوں اگر ہم عوام کو ان کے خلاف مشتعل نہ کریں تو کل کی بجائے یہ آج ہمیں کھا جائیں گے تو قرآن کریم دیکھو کیسا سچا ہے۔جَاءَ الْحَقُّ