خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 457 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 457

خطبات طاہر جلد 14 457 خطبہ جمعہ 23 جون 1995ء ہیں ، تمہیں مٹانے کی خاطر ا کٹھے ہوئے۔ بعینہ جیسے 1974ء کا واقعہ ہوا ہے ۔ اسی طرح یہود کی ایک مجلس بیٹھی اس میں تمام فرقوں کی نمائندگی ہوئی اور انہوں نے مل کر یہ کہا کہ ہم سارے اکٹھے ہو کر عیسائیت کو دائرہ یہودیت سے خارج کرتے ہیں ۔ آج سے ان کا یہودیت سے اور موسیٰ کے مذہب سے کوئی بھی تعلق باقی نہیں رہا۔ یہ واقعہ تاریخی واقعہ ہے جس کو ساری دنیا کے مو وساری دنیا کے مؤرخین تسلیم کرتے ہیں۔ یہ واقعہ کیوں وہاں پیش آیا جبکہ عیسائیوں بے چاروں کی تو حالت یہ تھی کہ ماریں کھاتے برا حال ان کا جو دعوے دار تھا مسیحیت کا اس کو صلیب پر لٹکا دیا گیا اور پھر ان لوگوں کو کچھ پتا نہیں رہا کہ واقعہ کیا ہوا۔ یہ الگ بحث ہے اور کمزوری کا یہ عالم تھا اور درویشانہ جاتے تھے اور قتل ہوتے تھے لوٹے جاتے تھے ان سے ڈر کیا تھا ان کو ایک ہی ڈر تھا کہ جَاءَ الْحَقُّ حق آچکا ہے ۔ دل گواہ تھے کہ زَهَقَ الْبَاطِلُ باطل نے بھاگنا ہی بھاگنا ہے ۔ یہ خوف تھا جب دوبارہ دامن گیر ہوا دوسرے مسیح کے وقت تو بعینہ وہی حرکتیں شروع ہو گئیں اور وہ جو اعلان تھا کہ ہم ان کو مٹا کے چھوڑیں گے صرف یہ نہیں ہوا۔ 72 فرقے اکٹھے ہو گئے ان کی بھی ایک کونسل بلائی گئی اور 1974ء کا سال ہے کہ انہوں نے یہ اعلان کئے کہ ٹھیک ہے ہم لڑا کرتے تھے ٹھیک ہے شیعہ سنی کو برداشت نہیں کرتے تھے سنی شیعہ کو نہیں برداشت کرتے تھے وہابی اہل سنت کو مشرک کہا کرتے تھے اہل سنت وہابیوں کو گستاخ رسول کہتے تھے۔ یہ سب کچھ تھا لیکن ہم سارے ایک فرقے کے خلاف کبھی اکٹھے نہیں ہوئے تھے۔ وہ یہ کہتے تھے اور 1974ء میں اس کا ذکر کیا گیا جو میں بات بیان کر رہا ہوں ۔ اس کا بار بار 1974ء میں حضرت خلیفہ المسیح الثالث کو یہ بات جتلائی گئی کہ دیکھو تم یہ نہ کہو کہ ہم بھی لڑتے ہیں ہم بھی مخالف تھے تمام تاریخ اسلام میں ایک دفعہ ثابت کر کے دکھاؤ کہ 72 فرقے اکٹھے ہو گئے ہم نے کہا الحمد للہ اسی تاریخ کے حوالے کی ضرورت تھی۔ بعد میں ہم کہیں گے تو تم نہیں مانو گے اور یہی تمہارے منہ سے کہلوانا چاہتے تھے کہ آج پہلی دفعہ یہ واقعہ ہوا ہے کہ 72 ایک ہو گئے ہیں اور ایک کو نکال کے باہر کیا گیا ہے لیکن ڈر کیا تھا وہ کہتے ہیں نَشِرْ ذِمَةٌ قَلِيلُونَ (الشعراء: 55) یہ بھٹو صاحب کا اعلان تھا یہ تو چھوٹے سے ذلیل لوگ ہیں یہ ہمیں غصہ دلاتے ہیں ۔ اگر ہمیں غصہ نہ دلاتے تو ہمیں اتنا سخت ا ان کے خلاف نہ لینا پڑتا، اتنا بڑا اقدام نہ کرنا پڑتا ۔ بعینہ یہی بات ضیاء ات ضیاء الحق نے کہی کہ ہم کیا کریں۔ وہاں تو نہیں لوگوں کو یہ کہتے تھے مگر جب غیر قو میں ان کو لکھتی تھیں کہ تمہارا دماغ پھر لم Measure