خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 443
خطبات طاہر جلد 14 443 خطبہ جمعہ 16 / جون 1995ء پیارے اور مخلص فدائی واقف زندگی چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ وفات پاگئے ہیں اور بہت سی خوبیوں کے مالک تھے ، دل موہ لینے والی صفات تھیں اور سب سے جو زیادہ دلکش صفت تھی وہ سچائی تھی۔بالکل سچے انسان، صاف کھرے کوئی جھوٹ ، کوئی ٹیڑھے پن کی رگ نہیں تھی اس شخص میں۔تو عمر تر اسی سال تھی ، ایک لمبے عرصے سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھے مگر محض اعجازی طور پر زندہ تھے اور ڈاکٹروں کو بھی کچھ سمجھ نہیں آتی تھی کہ یہ کیا ہورہا ہے۔بہت پرانی بات ہے جب میں وقف جدید میں ہوا کرتا تھا تو ایک دفعہ احمد نگر سے واپس آیا تو مجھے پیغام ملا کہ باجوہ صاحب اور ان کی بیگم صاحبہ سوئٹزرلینڈ سے آئے ہوئے ہیں اور انہوں نے پیغام دیا ہے کہ ضرور ہمیں ملیں۔چنانچہ میں اسی وقت لنگر خانے چلا گیا۔وہاں ایک کمرے میں ٹھہرے ہوئے تھے۔میں نے کہا کس طرح تشریف لائے ہیں آپ دونوں اچانک۔انہوں نے بڑے تحمل سے کوئی خوف بھی نہیں تھا کہ کس طرح آنا تھا، ہم تو مرنے کے لئے آئے ہیں یہاں۔میں نے کہا مرنے کے لئے کیا مطلب۔انہوں نے کہا کہ تہانوں پستہ ای نئیں کہ ڈاکٹر نے کہا کہ چھ مہینے اندر مر جاؤ گے۔کہا دونوں ہی مرجاؤ گے اور کہتے ہیں ہم نے پنجابی میں بات کر رہے تھے اردو اسی کی یہ ہے کہ ڈاکٹروں نے تو ہمیں کہہ دیا ہے کہ تم مرجاؤ گے تو ہم نے کہا کہ وہاں جو مریں گے اور لاشیں اٹھوا کے یہاں لائیں گے تو کیوں نہ یہیں مریں آکے تو چھ مہینے کے لئے ریز رو کرالیا ہے لنگر خانے میں کمرہ اور اپنی طرف سے مرنے کے لئے آئے ہوئے تھے۔اب میں نے بتایا ناں کہ موت بھی اپنے اختیار میں نہیں ہے۔اللہ کاحکم نہیں تھا انتظار کر کے واپس چلے گئے اور اس کے بعد سالہا سال تک بار ہا خطرات ہوئے اور اس طرح بیچ میں سے نکلے ہیں کہ ڈاکٹر حیران رہ گئے ہیں بالکل اور جب میں جایا کرتا تھا تو بڑی دور بھی سفر کر کے استقبال کے لئے آتے تھے اور تیز قدموں سے چلتے تھے۔حیرت ہوتی تھی کہ خدا نے دیکھیں کیسے ان کو اعجازی طور پر شفا بھی عطا فرمائی اور خدمت دین کی ہمت آخر وقت تک رکھی ہے۔تو ایک تو ان کا جنازہ ہے اور ان کے ساتھ ہی کچھ اور جنازے ہوں گے۔یہ چار سال تک انگلستان کی مسجد کے امام بھی رہے ہیں۔بہت ہی ان کے کوائف درج ہیں مگر مختصر جو میں نے بتانا تھا وہی کافی ہے۔ایک سچا مخلص ، فدائی انسان تھا۔زندگی میں بھی زندگی بھر اللہ کی رحمتوں کا نشان بنا رہا۔آخرت میں بھی ہمیں امید ہے بھاری اللہ تعالیٰ سے کہ رحمت ہی کا مظہر