خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 439 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 439

خطبات طاہر جلد 14 439 خطبہ جمعہ 16 / جون 1995ء کے ہر پہلو سے انسان اپنا تعلق توڑلے تو اس صفت کے ہر فیض سے محروم ہو جاتا ہے۔اس لئے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ حق کیا ہے اور قرآن کریم حق کے متعلق کے کیا کیا فوائد بیان کرتا ہے۔بعض ایسے فوائد بیان کرتا ہے۔بعض ایسے فوائد ہیں جو آپ کو فوری طور پر سمجھ آسکتے ہیں۔بعض ایسے ہیں جو نہیں سمجھ آتے کھول کر بیان کرنے پڑتے ہیں یا غور کریں گے تو آپ کو سمجھ آئے گی۔چند آیات جو میں نے نمونے کے لئے آج کے لئے چنی ہیں ان میں سے شاید ایک دو پر ہی گفتگو ہو سکے وہ یہ ہیں۔سورہ انعام کی آیت باسٹھ اور تریسٹھ۔وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ ثُمَّ ر د و ا إلى الله مولهُمُ الْحَقِّ أَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَسِبِينَ (الانعام : 62-63) وہ اپنے بندوں پر قاہر ہے اور قاہر کا مضمون اگر چہ اردو میں جب لفظ قہر کہتے ہیں تو ذہن میں منفی مضمون ابھرتا ہے مگر قاہر اس ذات کو کہتے ہیں جو کامل طور پر اختیار رکھتی ہے اور اتنا کامل اختیار ہے کہ بے خوف ہو کر اگر وہ سزا دینا چاہے تو تب بھی دے سکتا ہے جو چاہے کر لے کیونکہ مکمل قبضہ ہو اس وقت قاهر ہوتا ہے اگر مکمل قبضہ نہ ہوں ہو تو قاھر مکمل نہیں ہوا کرتا ہے۔انسانی Politics میں بھی یہ بات بار بار سامنے آتی ہے۔جہاں کسی اور ذات کا خوف ہو وہاں قہر پورانہیں ٹوٹتا۔اب بڑی طاقتیں چھوٹی طاقتوں پر کچھ نہ کچھ رحم بظاہر کیا کرتی تھیں اس وجہ سے کہ ایک دوسرے سے خوف تھا جب وہ خوف ٹوٹے تو قہر ظلم میں تبدیل ہو گیا حالانکہ موجود تھا مگر دکھائی نہیں دے رہا تھا کیونکہ قاہر منفی صورت اس وقت اختیار کرتا ہے جب کسی اور ذات کا خوف نہ ہو۔تو اللہ تعالیٰ کے تعلق میں جب لفظ قاہر آتا ہے تو مراد یہ ہے کہ وہ چاہے تو ہر ایک کو ملیا میٹ کر دے اس کو پوچھنے والا کوئی نہیں لیکن چونکہ حمید ہے اس لئے اس طاقت کے باوجود وہ لوگوں کو مٹا تا نہیں ہے اور بعض دفعہ لوگ مٹانے کا استحقاق بھی حاصل کر لیتے ہیں یعنی اس کے پوری طرح سزاوار بن جاتے