خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 435 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 435

خطبات طاہر جلد 14 435 خطبہ جمعہ 16 / جون 1995ء دھات کیوں لی تھی۔تو سارا مضمون اس سے پہلے چھان بین کر کے وہ تسلی سے اس پر حاوی ہو چکا ہوتا ہے اس پر عبور حاصل کر چکا ہوتا ہے۔پس علم کا فقدان بھی بعض دفعہ جھوٹ پر انسان کو مجبور کر دیتا ہے خواہ وہ عمد ہو یا غیر ارادی طور پر ہو اور سورۃ فاتحہ جس خدا کو پیش کرتی ہے وہ کامل علم والا ہے۔ایسا کامل علم کہ اس سے بڑھ کر علم متصور نہیں ہوسکتا۔پھر قوت تخلیق سے جو لوگ عاری ہوتے ہیں وہ دراصل تو وہی ہے کہ جو تعریف کا شوق ہے اسی کے نتیجے میں یہ بات بھی بنتی ہے مگر یہاں تعریف کے ساتھ حرص بھی شامل ہو جاتی ہے۔دھوکہ دہی بھی شامل ہو جاتی ہے۔وہ لوگ جو کچھ بنا نہیں سکتے حقیقی چیز بنا نہیں سکتے ، وہ جھوٹی چیزیں بناتے ہیں اور جتنی بھی مارکیٹ میں مصنوعات ملتی ہیں جو جھوٹی Immitation میں اصلی نہیں ہیں۔یہ وہی مضمون ہے جو تماشا دکھانے والے تماشہ دکھاتے ہیں۔جادوگر جادو دکھاتے ہیں اور رعب ڈالتے ہیں کہ ہم نے اس چیز کو یوں کر دیا اور عوام الناس کو دھوکا دیتے ہیں دراصل یہ تخلیق کی تمنا ہے، اللہ کی صفت خالقیت سے کچھ حصہ لینا چاہتے ہیں۔جو ان کو نصیب نہیں ہوتا ایسی صورت میں پھر ان کو جھوٹ بنانا پڑتا ہے۔قرآن کریم نے حضرت موسی اور ان کے ساحروں کے مقابلے کی مثال رکھ کر اس مضمون پر روشنی ڈالی ہے۔فَأَلْقَى مُوسَى عَصَاهُ فَإِذَا هِيَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُونَةٌ (الشعراء: 46) یہ نہیں فرمایا کہ موسیٰ کا سونٹا سانپوں کو نگل گیا۔فرمایا کہ سانپ تو تھے ہی نہیں۔ان کو کہاں یہ طاقت تھی کہ وہ سانپ بنا دیتے۔انہوں نے جھوٹ بنایا تھا۔سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ (الاعراف :117) انہوں نے لوگوں کی آنکھیں باندھی تھی۔ان پر جادو کیا تھا۔تو کیسا فصیح و بلیغ کلام ہے کہ فرماتا ہے کہ اس کے جھوٹ کو کھا گیا سونٹا یعنی اصلیت ظاہر ہوگئی وہ رسیوں کی رسیاں دکھائی دینے لگ گئیں۔تو جو کھایا تھا وہ سانپ نہیں کھائے تھے۔وہ جھوٹ کھایا تھا ان کا۔یعنی جھوٹ کو نگل گیا۔جھوٹ کی کوئی حقیقت باقی نہیں رہی۔حق آگیا اور باطل چلا گیا یہ مضمون ہے۔تو جتنے بھی مداری، تماش بین یا مارکیٹ میں مصنوعی چیزیں بنا کے پیش کرنے والے ہیں وہ اس وجہ سے جھوٹ بولتے ہیں اور جو خالق کل ہے اس کو اس کی ضرورت کوئی نہیں۔جو تخلیق پر کامل عبور رکھتا ہے اس کو ضرورت ہی کوئی نہیں۔