خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 434 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 434

خطبات طاہر جلد 14 434 خطبہ جمعہ 16 / جون 1995ء عادتیں ایسی ہیں کہ اگر تو ان کی پیروی شروع کر دے تو تمہیں وہ ضرور گمراہ کر دیں گی۔یہاں کا فراور مومن کی بحث نہیں اُٹھائی۔وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْأَرْضِ اور یہ کیسی کچی بات ہے کہ انسانوں میں بھاری اکثریت اس عادت میں مبتلا ہوتی ہے کہ جس کا علم نہ ہو اس کی بجائے اندازہ پیش کر دیتی ہے۔تو فرمایا إِنْ يَتَّبِعُوْنَ إِلَّا الظَّنَّ تو عادی ہے حقیقت دیکھ کر بیان کرنے کا اور حقیقت دیکھ کر قبول کرنے کا۔جن لوگوں کا تعارف ہم کردار ہے ہیں۔انسان بحیثیت مجموعی، ان کی اکثریت ایسی ہے۔جوطن پر بات کرنے کی عادی ہے حقیقی علم سے نہیں ظن سے بات کر دی ہے وَ اِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ (الانعام 117) اور انکل بیچو لگانے والے لوگ ہیں یعنی ڈھکو سلے لگانے والے، اٹکل پچو باتیں کرنے والے، ان کے پیچھے جو لگے گا وہ گمراہ ہو گا اس کو کبھی ہدایت نصیب نہیں ہوسکتی۔إِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ مَنْ يُضِلُّ عَنْ سَبِيلِهِ (الانعام: 118) اب علم کا جو فقدان ہے اس کے نتیجے میں جھوٹ بولا جا رہا ہے اور اعلم فرمایا ہے اللہ تعالیٰ کو اور قرآن کریم میں جوسورہ فاتحہ کی صفات ہیں وہ کامل علم کا تقاضا کرتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس مضمون کو یوں بیان فرمایا ہے کہ رحمان تخلیق کے لئے بنیادی صفت ہے اور تخلیق علم کے بغیر ہو ہی نہیں سکتی۔سب سے زیادہ علم خالق ہوا کرتا ہے اور دوسرے ربوبیت اگر برائی سے پاک ہے تو لازما علم کے ساتھ ہے ورنہ ہو ہی نہیں سکتا۔ایک ماں جس کو یہ نہیں پتا میں نے اپنا بچہ کس طرح پالنا ہے وہ اپنی لاعلمی میں رب نہیں بن سکتی۔اگر بنے گی تو کسی جگہ ٹھو کر کھائے گی اور اس کو کوئی نقصان پہنچا دے گی اور پھر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ الحمد کی تعریف ہے اس ماں کے لئے ، جس نے لاعلمی میں اپنے بچے کو زہر دے دیا۔تو الحمد کا مضمون ربوبیت کے ساتھ ملتا ہے اور رحمان تخلیق کا مضمون ہے اس میں دخل کرتا ہے تو قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ یہ ذات کامل علم رکھنے والی ہے کیونکہ جس نے پیدا کیا وہی جانے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمارہے ہیں دوسرے کو کیا پتا کہ کیا چیز ہے؟ اس لئے وہ لوگ جو چیزیں ایجاد کرتے ہیں جیسا علم ان کو ہوتا ہے ویسا کسی دوسرے انجینئر کو یا اس فن کے واقف کو ہو نہیں سکتا۔وہ اس کی گہری کنہ سے واقف ہوتے ہیں ان کو پتا ہے میں نے فلاں ٹکڑا کیوں استعمال کیا تھا فلاں قسم کی