خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 433 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 433

خطبات طاہر جلد 14 433 خطبہ جمعہ 16 / جون 1995ء ہیں اور ان کو کچھ بھی نہیں ہوتا۔اس سے فرق ہی نہیں پڑتا۔مگر ایک صاحب علم ، صاحب عقل، جس کا ماضی بے داغ ہو اور جو اپنی فراست کے لحاظ سے از خود قوم میں ابھر رہا ہو اس پر توقع کی نظریں پڑ رہی اس شخص سے یہ توقع ہو ہی نہیں سکتی کہ وہ جھوٹ بولے کیونکہ قرآن کریم جو مثالیں دے رہا ہے ان سے پتا چلتا ہے یا حمد کی خاطر جھوٹ بولا جاتا ہے۔حمد تو انہیں ملی نہیں۔یا سزا سے بچنے کی خاطر جھوٹ بولا جاتا ہے۔مگر جو کام کیا ہے اس کے نتیجے میں تو سزا ملی ہے۔لالچ کی خاطر جھوٹ بولا جاتا ہے ایسا دعوے دار تو اس وجہ سے اپنا سب کچھ کھو بیٹھتا ہے جو اس کا ہوتا ہے وہ بھی اس کو نہیں ملتا۔پس جھوٹ کی وجوہات پر غور کریں تو سورۃ فاتحہ کے اوپر ان کے اطلاق سے معلوم ہوگا کہ سورۃ فاتحہ کی جو بنیادی صفات ہیں ان میں سے ہر ایک، ایک السحق خدا کی گواہی دے رہی ہے کیونکہ ہر صفت اس کو جھوٹ کی ضرورت سے مبرا قرار دے رہی ہے۔پھر جھوٹ بولنے کی وجوہات میں علم کی کمی پر پردہ ڈالنے کے لئے جھوٹ بولا جاتا ہے۔یہ جتنے بھی لوگ جلد بازی میں جواب دے دیتے ہیں نا کہ یہ کیا ہے؟ وہ کہتے ہاں ہاں یہ بات یوں ہے اور وجہ یہ ہے کہ اگر وہ نہ کہیں تو یوں لگے گا کہ ان کو پتا نہیں۔بعض لوگ اس بات کو برداشت ہی نہیں کر سکتے کہ ہماری لاعلمی ظاہر ہو جائے اس لئے جھوٹ بول دیتے ہیں اور یہ جھوٹ جو ہے یہ اکثر ان کی نظروں سے بھی چھپا رہتا ہے۔وہ بالا رادہ جھوٹ نہیں بول رہے ہوتے وہ اپنے اندازے کو سچ سمجھتے ہیں اور اس عادت کی وجہ سے بعض بڑی بڑی خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔حضرت مصلح موعود اس معاملے میں بے حد حساس تھے بلکہ الرجک تھے۔اگر کوئی پوچھے کہ بتاؤ یہ کیا ہوا ہے وہاں اور کوئی شخص اپنی طرف سے کہہ دے تو کہتے تھے کس طرح تمہیں پتالگا، بتاؤ مجھے۔جب تو نے دیکھا نہیں ، تو نے معلوم نہیں کیا تو کیوں انداز ابتارہے ہو۔بعض صورتوں میں اندازہ بھی ایک جھوٹ ہوتا ہے۔اگر کہا جائے اندازے لگاؤ تو وہ اور چیز ہے لیکن اگر حقیقت پوچھی جائے اور اندازہ پیش کر دیا جائے تو یہ جھوٹ ہے پس وہ لاعلمی کو چھپانے کی خاطر جھوٹ ہوتا ہے۔قرآن کریم اس کی مثال دیتے ہوئے فرماتا ہے اِنْ يَتَّبِعُوْنَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ (الانعام: 117)۔اس آیت کا پہلا ٹکڑا ہے وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَنْ سَبِيلِ اللهِ “ وہ اکثر لوگ جو زمین میں ہیں ان کی