خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 432
خطبات طاہر جلد 14 432 خطبہ جمعہ 16 / جون 1995ء میں آپ کو لے جاتا ہوں بازار میں اور اعلان ہوتا ہے کہ کسی نے کوئی چیز چرائی ہے اور جس نے چرائی ہے اس کو سو جوتے پڑیں گے۔آپ جھوٹا دعوی کریں گے اس وقت کہ ہاں ہاں میں نے چرائی ہے۔میں نے چرائی ہے۔میں نے کہا چور بھی نہیں کرے گا کیونکہ مؤاخذہ کے ڈر سے لوگ جھوٹ بولتے ہیں اور جہاں کھلی کھلی سزامل رہی ہو معصوم کو اس کی کیا ضرورت ہے کہ اس سے اگلا بڑا دعویٰ کر بیٹھے ابھی کافی نہیں ہے میری اور بھی دشمنی کرو۔تو پہلا ہضم نہ ہوا ہو اوپر سے ایک اور دعویٰ کر بیٹھے دوسرا ہضم نہ ہوا ہوا اور دعوی کر بیٹھے اور اس کی سزا بھی پوری نہ ملی ہو تو ایک اور دعویٰ کر بیٹھے۔میں نے کہا تمہیں اتنی بھی عقل نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے نشان کو آپ کی تکذیب کے نشان کے طور پر دیکھ رہے ہو۔میں نے کہا جب آپ نے دعوی کیا مامور من اللہ کا تو اس وقت مسلمان آپ کے دشمن ہوئے ، مہدی کا دعوی کیا مسلمان دشمن ہوئے اور مسلمان خود انگریزوں کی ایک رعایا تھے لیکن جب خوب مسلمانوں کا قہر آپ پر برسا ہے تو آپ نے کہا اچھا یہ تو بڑے مزے کی بات ہے کیوں نہ اپنی سلطنت کے فرمانرواؤں کو بھی دشمن بنا لیا جائے اور دعویٰ کر دیا کہ تمہارا خدا کا بیٹا مر گیا ہے اور میں مسیح ہوں۔یہ کس قسم کا جھوٹا ہے جو ایسی باتیں کر رہا ہے۔پھر اس کو خیال آیا کہ او ہوا بھی تو ہندو ناراض نہیں ہوئے۔بات تو تب بنے گی کہ ان کو بھی ناراض کیا جائے، کرشن ہونے کا دعویٰ کر دیا اور ہندوؤں کا غضب بھڑ کا اور لیکھر ام پیدا ہوا اور بڑے بڑے مقابلے ہوئے ، مرلی دھر سے کہیں مناظرہ ہو رہا ہے ایک شور پڑ گیا۔تو قادیان کے گرد بہت سکھ تھے ، آپ نے فرمایا کہ ہندوؤں کا ہندوستان میں تو زور ہے مگر اردگرد تو سکھ ہی ہیں نا۔کیوں نہ سکھوں کو ناراض کیا جائے دعوی کر دیا کہ حضرت بابا نا تک مسلمان تھے۔میں نے کہا آپ ادنی سی عقل سے کام لیں کوئی شخص جس کو سزا مل رہی ہو سچ بولنے کی اگر وہ سچ نہیں تو جھوٹ بولنے کی سزا ہے تو جھوٹا آدمی تو سزا سے بچنے کے لئے جھوٹ بولتا ہے۔سزا حاصل کرنے کے لئے تو جھوٹ نہیں بولا کرتا۔میں نے مثال دی۔میں نے کہا آپ کو میں نے کہا ہے جرأت ہے تو کر کے دکھائیں یہ ناممکن ہے کہ ایک انسان ایسی چیز کا دعوی کرے جس کے نتیجے میں حمد نہ ہوتی ہو بلکہ گالیاں پڑتی ہوں اور سزا ملتی ہو۔پاگل اس لئے کرتے ہیں کہ ان کو کچھ بھی نہیں ہوتا۔پاگلوں بیچاروں کے دعوے آپ نے دیکھے ہوں گے ، سنے ہوں گے گلیوں میں پھرتے رہتے