خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 420 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 420

خطبات طاہر جلد 14 420 خطبہ جمعہ 19 جون 1995ء رہیں اور بے حال رہے حالانکہ جس نے بھیجا تھا اس کی نیت میں کوئی فتور نہیں تھا۔تو بسا اوقات نیست میں فتور نہ ہونے کے نتیجے میں بھی چیز خراب ہو سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے خراب چیز کی میں بحث چھیڑتا ہی نہیں۔تمہاری نیت پاک ہو تو ہر چیز کو قبول کرلوں گا اور نیت پاک ہو تو ، دراصل تو تمہاری ساری چیزیں ایسی ہیں ہی نہیں جو خدا کے لئے قبول کرنے کے لائق ہیں۔نیت ہی ہے جو فرق ڈالتی ہے۔اس لئے نیتوں کو پاک صاف رکھنا اور اگر نیتیں پاک ہوں تو پھر ہر کوشش جو نیت کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے وہ پیاری لگتی ہے۔وہ بھی ہوئی چیز خواہ دنیا کے ذوق سے کتنی ہی گری ہوئی ہو مگر اگر نیت میں محبت ہے اور خوش کرنا ہے تو ہر حالت میں وہ چیز اچھی لگے گی۔پس خدا تعالیٰ نے یہ حکمت ہمیں سکھائی ہے کہ میری راہ میں قربانی پیش کرتے ہوئے اپنی نیتوں کو کھنگالو، ان کو صاف ستھرا رکھو اور پاکیزہ کی نیت باندھو، پھر دیکھو میں تم سے کیسا سلوک کرتا ہوں اور ایسا غناء کا سلوک کروں گا۔جس سے تم حمد کے ترانے گاؤ گے اور پہلے سے بڑھ کر مجھے حمید سمجھو گے۔پس بنگلہ دیش ہو یا یوگنڈا یا دوسری جماعتیں وہ اس پیغام کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانی پیش کرتے وقت پہلے اپنی نیتوں کو درست اور پاک کریں اور جوسب سے اچھا ہے وہ پیش کریں۔جس میں گندگی مل گئی ہے وہ مال جو گندہ ہے، جو رشوت کی کمائی ہے مثلاً یا حرام خوری ہے، لوگوں کے پیسے کھا کر اکٹھا کیا گیا ہے وہ خدا کے حضور پیش ہو ہی نہیں سکتا۔آپ کو پتا ہے کہ اس لئے آپ نے نیت کرتے وقت فیصلہ کرنا ہے کہ محض پاک مال جو میرے علم میں پاکیزہ اور صاف ستھرا ہے وہی میں پیش کروں گا۔جہاں تک نا پاک مال کا تعلق ہے۔وہ انسان کی طرف سے خدا کے حضور پیش ہو ہی نہیں سکتا۔یہ گستاخی بھی ہے اور گناہ بھی ہے۔اس ضمن میں ایک بات سمجھانے والی ہے کیونکہ اکثر لوگوں کے دماغ میں جو سود کے معاملے میں نظام جماعت کے مسلک پر غور کرتے ہیں یہ سوال اُٹھ سکتے ہیں۔اگر سودی روپیہ ہو تو کہا یہ جاتا ہے کہ اسے دین کے سپرد کر دو خدا کی راہ میں وہ روپیہ خرچ ہو جائے گا۔تو سوال یہ ہے کہ ان آیات کا اس مسلک سے تصادم تو نہیں ہے۔ایک طرف اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ نہیں کرنا ، کوئی گندی چیز میرے حضور پیش نہیں کرنی اور دوسری طرف جماعت کہتی ہے کہ وہ سب سے خبیث کمائی سود کی کمائی جو ہے وہ اللہ کے حضور دے دیا کرو۔