خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 419
خطبات طاہر جلد 14 419 خطبہ جمعہ 19 جون 1995ء ذریعہ یہ ہے کہ اس کے سوا ہر چیز کے غنی ہونے کا انکار کر دیں۔رزق مانگیں تو اس سے مانگیں ،تو کل کریں تو اس پر کریں غنی سمجھیں تو صرف اس کو سمجھیں۔اگر آپ یہ کریں تو بددیانتی اس طرح غائب ہو جاتی ہے جیسے روشنی کے نتیجے میں اندھیرے غائب ہو جاتے ہیں۔ایسے شخص کے ذہن میں بد دیانتی کا تصور آ ہی نہیں سکتا اور پھر وہ جو کچھ خدا کے حضور پیش کرتا ہے اس کے لئے لازم ہے کہ اسے سجا کر اس طریق پر پیش کرے کہ غنی ہونے کے باوجود اسے پیار سے قبول کرے۔اس لئے بعض لوگ اپنی غربت کی کمزوری ڈھانپنے کے لئے جب تحفہ پیش کرتے ہیں تو بعض دفعہ بچے بھی خاص طور پر اس کو سجاتے ہیں۔اس کے ارد گرد کوئی چیز یں، پھول لگاتے ہیں، عجیب و غریب سی حرکتیں کرتے ہیں جو عام ذوق کا معیار ہے اس سے تو گری ہوئی ہوتی ہیں لیکن جہاں تک ان کے پیار کی قبولیت کا تعلق ہے ان کا معیار بہت بلند ہے کیونکہ ہر لکیر جو بچہ ڈالتا ہے کہ میں خوش ہو جاؤں کسی طریقے پر۔کبھی سرخ سیاہی سے، کبھی سبز سیا ہی سے، کبھی نیلی سے کبھی پھول بناتا ہے تا کہ وہ جو اس نے چھوٹا سا تحفہ رکھا ہے اس کو ایسے کاغذ میں لیٹے جس پر اس نے اپنے ہاتھ سے پھول بوٹے بنائے ہوں۔تو وہ پھول بوٹے اپنی ذات میں تو کوئی کشش کا موجب نہیں مگر اس کی ادا بہت پیاری ہوتی ہے۔اس کی کوشش نظر کو اچھی نہیں لگتی بلکہ اپنی محبت میں خرید لیتی ہے۔تو اللہ تعالیٰ کا جو بندوں سے تعلق ہے وہ یہ نسبت جو میں نے مثال پیش کی ہے اس کے مقابل پر اس کی نسبت اتنی زیادہ ہے کہ ہم اس کو شمار ہی نہیں کر سکتے۔ہم ہر چیز جو خدا کے حضور بہت ہی سجا کر بھی پیش کریں اللہ کے نزدیک جو حقیقت میں غنی ہے اور ذوق کے اعتبار سے خدا کا ذوق اس کی خلقت میں اس کی ہر چیز میں جو دکھائی دیتا ہے وہ ہماری سجاوٹ کی کوئی حیثیت نہیں سمجھتا فی الحقیقت لیکن کیونکہ حمید ہے صرف غنی نہیں ہے اس لئے وہ اپنے حمد کے جلوے میں ہم پر اترتا ہے اور صاحب حمد بن کر ہماری کمزور چیزوں کو بھی پیار کی نظر سے دیکھتا ہے۔مگر نیتوں پر نظر رکھتے ہوئے نہ کہ ظاہر پر نظر رکھتے ہوئے۔اسی لئے قرآن کریم کی جو آیت میں نے آپ کے سامنے پڑھی ہے اس میں فرمایا ہے۔وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ دیکھو خبيث کی نیت نہ کرنا۔اس میں حکمت یہ ہے کہ ہم نیست نہ بھی کریں تو پھر بھی مال خبیث ہو سکتا ہے۔بعض دفعہ ایک انسان کو پتا نہیں ہوتا اپنے کسی پیارے کو تحفہ بھیجا اور اس عرصے میں اس کے علم کے بغیر اس میں زہر پیدا ہو چکا تھا اور دوسرے دن حال پوچھا تو پتا لگا ساری رات ان بے چاروں کو الٹیاں آتی