خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 415
خطبات طاہر جلد 14 415 خطبہ جمعہ 19 جون 1995ء ہوئے کہ اگر ہم نے ان پر Disciplinary Actionلیا، کوئی تا دبی کارروائی کی تو یہ اپنی خدمتوں سے ہاتھ کھینچ لیں گے نظام جماعت کی بے حرمتی کرتے ہوئے ان سے غیر منصفانہ سلوک کرتا ہے۔غیر منصفانہ ان معنوں میں کہ بعضوں سے ، غریب لوگوں کی نسبتا کم صاحب حیثیت لوگوں سے اور سلوک اور ان سے کچھ اور سلوک ، تو امتیازی سلوک کو بھی غیر منصفانہ سلوک ہی کہا جاتا ہے۔پس اس پہلو سے میں غیر منصفانہ کا لفظ استعمال کر رہا ہوں کہ ان کے خوف سے، ان کے خدمت سے ہاتھ کھینچنے کے نتیجے میں انسان اگر ان کی طرف توجہ کرتا ہے اور ان کی ان کمزوریوں سے پردہ پوشی کر لیتا ہے، نظام جماعت جن کمزوریوں سے صرف نظر کی ان کو اجازت نہیں دیتا تو یہ ایک شرک بھی ہے اور خدا کے غنی اور حمید ہونے کا ایک عملی انکار ہے۔چنانچہ جونمائندہ میں نے اس دفعہ مجلس شوری کے لئے بھجوایا ہے ان کو اس بات کی تاکید کی ہے کہ ایک بھی ایسا آدمی مجلس شوری میں شامل نہ ہو جو خدا کے حضور اپنے چندوں کے معاملے میں صاف نہ ہو اور غریب ہو یا امیر ہو یہ بالکل بحث نہیں ہے۔اگر امیر چندے کھا رہا ہے تو اس کو اجازت نہیں ہوگی مجلس شوری میں شامل ہو۔اگر غریب دو کوڑی بھی اخلاص سے دے رہا ہے اور قاعدے اور قانون کے مطابق دے رہا ہے تو وہ عزت کے لائق ہے اس کو ضر ور نظام جماعت میں شامل کرنا ہے۔جب یہ نصیحت کی گئی تو ایک حیرت انگیز بات سامنے آئی کہ باوجود اس کے کہ عموماً چندوں میں حالت پہلے سے بہت بہتر تھی، ایک لمبے عرصے سے جماعت اس قانون کو نظر انداز کر کے کہ بعض بڑے بڑے لوگ بعض جماعتوں کے متاثر جائیں گے ان کی اس کمزوری سے صرف نظر کرتے ہوئے جماعت نے ان کو عہدے بھی دئے ہیں رکھے تھے اور ان کو مجلس شوری کا ممبر بھی بنایا ہوا ہے۔جب یہ پیغام پہنچا تو ان کا گھبرایا ہوا خط مجھے ملا میں نے کہا کہ میں آدمی بھیج رہا ہوں اور اس کو یہ تاکید کر دی ہے میں نے۔اس لئے آپ کو متنبہ کر رہا ہوں۔اس کا تو مطلب ہے کہ پھر مجلس شورای کے ممبر تھوڑے رہ جائیں گے۔میں نے کہا الحمد للہ اس سے اچھا اور کیا ہوسکتا ہے کہ تھوڑے ہوں اور پاکیزہ ہوں۔وہ جو آپ نے بھرتی کی ہوئی تھی ،سارا نقصان اسی کا ہے۔ان کی وجہ سے جماعت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔خدا غنی ہے اور حمید بھی ہے۔اس کو کمزور دانوں کی اس وجہ سے کہ کہیں خدا کی خدائی بھوکی نہ مرنے لگے ضرورت نہیں ہے۔وہ دانے تو اللہ خود ضائع فرما دیتا ہے۔اس کا قانون ضائع کر دیتا ہے اور انہی کی