خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 37
خطبات طاہر جلد 14 37 خطبہ جمعہ 13 جنوری 1995ء ساتھ وہ غیر احمدی تھے یا غیر مسلم تھے انہیں برائیوں کے ساتھ ،صرف لیبل ہی بدلا ہے نا، وہ احمدی یا مسلم کہلائیں گے۔تو جب آپ نے ان کو اس حیثیت سے قبول کر لیا کہ تمہاری بیماریاں اپنی جگہ رہیں کوئی فرق نہیں پڑتا تو ان بیماریوں کو اپنے وجود میں سرایت کرنے کا موقع دے دیا آپ نے اور باقی سب بھی دیکھ کر یہی سمجھتے ہوں گے کہ ہاں بس صرف نام ہی بدلنا تھا اور کیا فرق پڑنا تھا وہ نام بدل گیا۔اس لئے ہم بھی انہیں برائیوں کے ساتھ رہ کر اسی نام کے اندر رہ سکتے ہیں۔تو یہ جو منطقی بخشیں ہیں دیکھنے میں تو لگتا ہے کہ بڑی نکتے سے نکتہ نکال کر منطقی بحثیں کی جارہی ہیں مگر یہ منطقی بحثیں نہیں ہیں بالکل حقیقت ہے۔وہ شخص جس کو اللہ سے محبت ہے، اللہ سے پیار ہے اس کا خلق خلق خداوندی بن رہا ہے وہ جب کسی میں تبدیلی پیدا کرتا ہے تو راضی نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کے اندر ویسی ہی پاک تبدیلیاں پیدا نہ ہوں جیسی اس کے اندر پیدا ہورہی ہیں ان تبدیلیوں کی طرف نظر رکھیں ، اپنی ذات میں نگرانی رکھیں کہ آپ کے اندر وہ تبدیلیاں پیدا ہو بھی رہی ہیں کہ نہیں اور جو اچھی بات آپ کے اندر پیدا ہو رہی ہے، جو اخلاق سنور رہے ہیں ، جن کو آپ خدا کے فضل کے ساتھ دعوت الی اللہ کے ذریعے جماعت میں داخل کرتے ہیں لازماً آپ کو دیکھنا ہوگا کہ ان میں بھی وہ پاک تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں کہ نہیں۔پس دراصل ہر مبلغ جب تبلیغ میں کامیاب ہوتا ہے تو اس کا سفر ختم نہیں ہوتا بلکہ اس کے مربی کے سفر کا آغاز ہوتا ہے وہ پہلے مبلغ بنتا ہے پھر اسے لازماً مربی بنا ہو گا۔اگر یہ نہیں کرے گا تو پھر ا سے استغفار کرنی چاہئے کیونکہ ہو سکتا ہے اس سے کچھ ایسے نقصانات جماعت کو پہنچیں کہ اس میں وہ بھی ذمہ دار ہو۔پس اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے یہ جو باتیں اخلاق کے حوالے سے میں کھول کھول کر بیان کر رہا ہوں جیسا کہ میں نے آنحضرت ﷺ کی حدیث سے ثابت کیا ہے اخلاق کوئی مذہب سے الگ حیثیت نہیں رکھتے۔دہریوں نے بھی محسوس کر لیا تھا کہ اخلاق ہی دراصل وہ ہیں جو خدا کی ہستی پر اعتماد کی جان ہیں اگر اخلاق کی طرف دنیا واپس لوٹے تو لازم ہے کہ وہ خدا کی طرف واپس لوٹے گی اور خدا سے جو دور جائے گا اس کا بد اخلاق ہونا ضروری ہے یہ بھی از خود انہوں نے تسلیم کر لیا۔پس روس میں جو انقلاب آخر پر جس نہج پر روانہ ہوا اس نے ثابت کر دیا کہ وہ لوگ جو اخلاق سے عاری رہ کر ایک بے خدا نظام کی حفاظت کا دعویٰ لے کر اٹھے تھے وہ کس بری طرح اس