خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 412
خطبات طاہر جلد 14 412 خطبہ جمعہ 19 جون 1995ء بائیں ہاتھ کا مضمون قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ مخالفت کا مضمون ہے۔چنانچہ بائیں ہاتھ والوں کو جہنم کی خوشخبری دی گئی ہے۔دائیں ہاتھ والوں کو جنت کی خوشخبریاں دی گئیں ہیں تو دائیں اور بائیں سے مراد یہاں تائید یا مخالفت کا ہاتھ ہے۔پس صفات باری تعالیٰ کے دائیں ہاتھ بیٹھنے والے اپنے لئے جنت بناتے ہیں اور بائیں ہاتھ بیٹھنے والے اپنے لئے جہنم بناتے ہیں۔تو اگر صفات کا پتا ہی کچھ نہیں تو آپ کو کیا پتا کدھر بیٹھنا ہے اور کدھر نہیں بیٹھنا۔پھر تو آپ کی زندگی حادثات کا نتیجہ بن جائے گی اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں رہے گی۔پس اس مختصر جواب کے بعد اب میں واپس اس مضمون کی طرف آتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے غَنِيٌّ حَمِيدٌ مال کی اس کو ضرورت نہیں ہے لیکن تم غنی نہیں ہو، تمہیں ضرورت ہے اور اس ضرورت کو پورا کرنے کا ایک ذریعہ یہ ہے کہ غنی خدا سے تعلق باندھو۔اب یہ جو مضمون ہے اس کو انسان اپنی روز مرہ کی زندگی میں اپنے مشاہدے کے اوپر اطلاق کر کے دیکھے تو پھر اس کو سمجھ میں آتی ہے کہ کیا ضرورت ہے غرباء کو کہ امیروں کی خدمت میں حاضر ہو کر کچھ تحفے پیش کرتے ہیں اور اگر کوئی تحفہ نہ ہو غریب کے پاس، فقیر ہو تو وہ کہتے ہیں سبز پتا ہی اس کا بادشاہ یا امیر کے حضور ایک تحفے کے طور پر پیش کر دینا کافی ہے۔جو امیر کو تحفے دیتا ہے اس کا امیر کے ساتھ تعلق اس رنگ میں قائم ہوتا ہے کہ امیر اس کو لوٹا کے دیتا ہے اور زیادہ دیتا ہے ورنہ بہت سے ایسے لوگ ہیں جو امیروں کے لئے تو محنت کرتے ہیں اور ان کو تحفے دیتے ہیں غریب کی طرف نظر ہی نہیں کرتے اور اپنے سے ادنی کو کچھ نہیں دیتے۔اپنے سے اعلیٰ کو دیتے ہیں حالانکہ ضرورت اس کو ہے جو اس سے ادنی ہے۔جن کے پاس کچھ نہیں ہے۔ان کو چھوڑ کر اعلیٰ کی طرف جور جوع کرتے ہیں تو دل میں اصل میں یہ حرص ہوتی ہے کہ ہم جو مال دیں وہ بڑھ کر واپس ملے، ضائع نہ ہو تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ غنی سے تعلق جوڑ نا تمہارا کام تمہارے فائدے میں ہے اگر اللہ تعالیٰ یہ مالی قربانی کا نظام نہ رکھتا اور تحائف قبول نہ کرتا تم سے تو پھر تمہارا نقصان تھا۔تمہارا اللہ سے مالی قربانی کا تعلق قائم نہ ہوتا اور اس پہلو سے تمہارے اموال کو وہ برکت نہ ملتی جو طبعا اور فطرتا ایک غریب آدمی کے امیر آدمی سے تعلق کے نتیجے میں اس کو برکت ملتی ہے اور وہ برکت ہمیشہ اس کی اس پاکیزہ کوشش کے نتیجے میں یا بہت ہی ایک دلنواز کوشش کے نتیجے میں ہے جو امیر کو اپنے تخت گاہ سے دلنواز دکھائی دیتی ہے۔اس کی