خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 400 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 400

خطبات طاہر جلد 14 400 خطبہ جمعہ 2 / جون 1995ء ہو جاتا ہے اور اس کی دولت ایسی ہے جیسے بنک میں جمع ہے۔اس سے اس کو کوئی بھی فائدہ نہیں تو ایک تو یہ طریق ہے۔جس سے خدا بتا تا ہے کہ تم دراصل اپنے خلاف بخل کرتے ہو۔دوسرا یہ ہے کہ بعض دفعہ ایک شخص کو بچانا ہو تو اس کی دولت میں کمی آنی شروع ہو جاتی ہے اسے نقصان کے ابتلاء آتے ہیں اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ مجھ پر بڑی مصیبت ٹوٹ پڑی ہے حالانکہ وہ خدا کی طرف سے آزمائش جو اپنے کسی بندے کی نیکی کی وجہ سے اس کو بچانے کی خاطر آتی ہے اسی میں اس کی نجات ہے۔اللہ تعالی اس کو بتاتا ہے کہ اس دولت میں تمہارے لئے کچھ نہیں ہے۔اگر اس ٹھوکر سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے تمہاری توجہ خدا کی طرف ہو جائے تو یہ کوئی بُرا سودا نہیں ہے۔ساری دولتیں دے کر بھی اگر اللہ مل سکے تو یہ بہت اچھا سودا ہے۔اسی طرح آزمائشیں بعض دفعہ جسمانی، جانی نقصانات کے ذریعہ انسان کو لاحق ہوتی ہیں اور لوگ کہتے ہیں کہ اس میں اللہ کا کیا حرج تھا ہمارا بچہ زندہ رہتا۔ہمارا فلاں زندہ رہتا تو دراصل وہ بخل وہاں دکھاتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ یہ سب عطا خدا کی تھی اپنے ہاتھ سے کچھ بھی نہیں کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو محمد رسول اللہ ﷺ کی غلامی میں سب سے بڑے عارف باللہ پید اہوئے ہیں۔آپ فرماتے ہیں سب خدا کی عطاؤں کا ذکر کر کے۔سب کچھ تیری عطا ہے گھر سے تو کچھ نہ لائے (در نمین: ۳۶) عظیم مضمون ہے کہ جو کچھ بھی ہے اگر تیری راہ میں کچھ خرچ کرتے ہیں تو وہ کیا ہے کہاں سے لے کے آئے تھے ، تو نے ہی عطا کیا تھا۔پس ایسا شخص جس کی ہر وقت خدا پر یہ نظر ہو کہ جو کچھ عطا ہوا ہے تو نے کیا ہے اپنے گھر سے ہم کچھ نہیں لائے۔ایسا شخص کبھی بھی خدا کے حضور بخیل نہیں ہوسکتا اور جب وہ بخیل ہوتا ہے تو پھر اللہ خود رحمت کا سلوک فرماتا ہے اور سب کچھ نہیں مانگتا۔الَّذِينَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (البقره: 4) کہ جو کچھ بھی ہم نے انہیں عطا کیا ہے ہم سارا ان سے واپس نہیں مانگتے وَ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ اس میں سے کچھ واپس مانگتے ہیں تا کہ دیکھیں کہ وہ احسان فراموش تو نہیں ، وہ بھول تو نہیں گئے کہ کس ذات نے ان کو دیا تھا اور پیش کرتے وقت کس طرح پیش کرتے ہیں۔یہ ساری آزمائشیں مومن کے اسلام کی آزمائشیں ہیں دراصل جن میں وہ