خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 401 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 401

خطبات طاہر جلد 14 401 خطبہ جمعہ 2 / جون 1995ء اپنی جہالت کی وجہ سے بسا اوقات پورا نہیں اُترتا ہے تو کئی قسم کے ابتلاؤں میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اس کا بخل جو خدا کی طرف سے ہورہا ہے وہ دراصل اپنی ذات کے لئے ہوتا ہے اس کے سوا کچھ نہیں ہوتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَاللهُ الْغَنِيُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اے بیوقوفو! اللہ تو غنی ہے تمہارا ہاتھ روک لینا اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا تم فقراء ہو۔وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ اگر تم سارے کے سارے بھی پھر جاؤ تو وہ اس بات کا اختیار رکھتا ہے کہ وہ تمہاری جگہ ایک اور قوم لے آئے ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُمْ پھر وہ تمہاری طرح نہیں ہوں گے یعنی کام تو اللہ کے پورے ہونے ہیں یعنی تم نہیں کرو گے اور قوم آجائے گی۔ایک خاندان نہیں کرے گا تو دوسرے خاندان اٹھ کھڑے ہوں گے اور یہ جو قانون ہے یہ ایسا قطعی اور یقینی ہے کہ تاریخ مذاہب پر غور کرتے ہوئے آپ کو ایک بھی استثناء دکھائی نہیں دے گا۔جب بھی کسی قوم نے استغناء کیا ہے خدا کے پیغام سے اور اس کی مدد سے منہ پھیرا ہے اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اور قوموں کو لے آیا ہے اور پھر ویسے نہیں ہوئیں جیسا کہ پہلی ناشکری قوم تھی اور ایسا خاندانوں کا حال ہے ایسا ہی افراد کا حال ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَرَبُّكَ الْغَنِيُّ ذُو الرَّحْمَةِ (الانعام : 134) اللہ تو غنی ہے مگر شقاوت قلبی کی وجہ سے نہیں ہے اس لئے وہ لوگ جوغنی بنتے ہیں نظام کی نمائندگی میں ان کے لئے لازم ہے کہ ان کی غناء اپنے نفس کی شقاوت کی وجہ سے نہ ہو۔بے پرواہی کی وجہ سے نہ ہو۔وہ کہتے ہیں جائے جہنم میں جو مرضی ہو ہمیں تو پرواہ کوئی نہیں۔ہم تو نمائندہ ہیں نظام کے اور اللہ کا نظام ہے۔یہ غنی کے معنے نہیں ہیں۔اللہ اپنی مثال دیتا ہے۔رَبُّكَ الْغَنِيُّ ذُو الرَّحْمَةِ تِیرارب غنی ہے اور اس کے باوجو درحمت والا ہے۔رحمت والا ہونے کے باجود غنی ہے پس جہاں بھی ان دونوں صفات کا تصادم ہوگا وہاں آپ صفات باری تعالیٰ سے دور ہٹ چکے ہوں گے اور کوئی ایسا زندگی میں نظام جماعت کے کارکنوں کے لئے لمہ نہیں آنا چاہئے جس میں ان کی غناء جو اللہ کی طرف سے نظام جماعت کی خاطر ہو، وہ ان کی شقادت قلبی کی وجہ سے ہو، رحمت کی وجہ سے ہونی چاہئے۔جس کا مطلب یہ ہے ایسے لوگوں کو ذلت کے ساتھ نہیں دیکھتے، گھٹیا نہیں سمجھتے ، اپنے سے ادنی نہیں سمجھتے بلکہ ان پر رحم کرتے ہیں اور رحم کی نظر ڈالتے ہیں کہ یہ بے چارے محروم ہیں۔ان کو پتا