خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 398 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 398

خطبات طاہر جلد 14 398 خطبہ جمعہ 2 / جون 1995ء اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام سے وعدہ کیا تھا کہ تو نے میرے ساتھ سلام کا تعلق باندھا ہے میں اس تعلق کی قدر کروں گا اور قیامت تک لوگ تجھ پر سلام بھیجتے رہیں گے۔پس بعض لوگ پوچھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ درود میں ابراہیم کا نام کیوں آیا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ سلام تو سب نبیوں کے لئے آتا ہے یعنی قرآن کریم پڑھ کے دیکھ لیں ہر جگہ سلام لفظ ہے جس کا مطلب ہے کہ سلامتی میں داخل ہوئے تھے تو اس پر سلام بھیجا گیا مگر ایسا سلام کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے نام ساتھ بریکٹ کر کے اور کسی نبی کا ذکر نہ کرنا اور صرف ابراہیم کا کرنا یہ ایک ایسی عظیم امتیازی شان ہے جو اسی مکالمے کی یاد دلاتی ہے۔اسلِم قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ جب تیرے رب نے ابراہیم سے کہا کہ اسلام قبول کر، کہا میں تو اسلام قبول کر چکا ہوں۔اتنا کامل اسلام جیسا ابراہیم کا تھا کسی اور نبی کو نصیب نہیں ہوا سوائے محمد رسول اللہ لے کے۔پس ایک دین سلام ابراہیم کا تھا، ایک دین سلام جو اسلام بن کر ابھر اوہ حضرت محمد رسول اللہ اللہ کا دین ہے اور اس کا نکتہ یہی ہے کہ خدا کے سپر داپنا سب کچھ کر دیا جانتے ہوئے کہ یہ کچھ بھی نہیں ہے۔خدا کی خدائی میں اس سے ایک ذرے کا بھی اضافہ نہیں ہوسکتا تھا۔ابراہیم اگر منہ موڑ لیتا تو خدا کو کیا نقصان پہنچنا تھا مگر دل کی گہرائی سے یہ کہا ہے کہ میں سلام قبول کر چکا ہوں اسلام لے آیا ہوں، تجھے سلام جانتا ہوں۔تجھ میں اپنا سلام دیکھتا ہوں اور خدا نے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سلامتی سے اس کا نام رکھا اس قدر بڑھا کر دینے والا ہے وہ۔تو وہ منی پھر کیوں نہ ہو۔جو بظاہر اس کے سپر د ہوتے ہیں یعنی اپنا سب کچھ اس کے سپر د کر تے ہیں۔ان سے وہ ایسا سلوک فرماتا چلا جاتا ہے کہ وہ ان کی قربانی خدا سے سلوک کے مقابل پر حقیر اور بھی حقیر اور بھی حقیر ہوتی چلی جاتی ہے۔یہاں تک کہ اس کی کوئی بھی حیثیت باقی نہیں رہتی۔جو کچھ ابراہیم کو عطا ہوا ہے اس کے مقابل پر جو ابراہیم نے خدا کو دیا تھا اس کا موازنہ تو کر کے دیکھیں، کچھ نہیں تھا یعنی دنیا کی قدروں کے لحاظ سے اگر ناپا جائے صرف ایک روح کی قدر تھی جو عظیم الشان تھی اور اسی قدر پر خدا نے نظر رکھی اور اسی قدر کے نتیجے میں ظاہری قربانی معمولی ہونے کے باوجود بے انتہا عطا فرمایا۔پس یہ خدا جو سلام بن کر ابھرتا ہے۔یہ فنی ہوتے ہوئے حمید ہے یہ نکتہ ہے جو آپ کو اچھی طرح ذہن نشین کرنا چاہئے۔اگر آپ کسی سے غنی ہوں اور پھر حمید بھی ہوں تو ایسے شخص سے آپ متکبر نہیں ہو سکتے۔پس جہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم سب لوگ اپنی قربانیاں روک لو میرا کچھ بھی نقصان