خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 35 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 35

خطبات طاہر جلد 14 35 خطبہ جمعہ 13 جنوری 1995ء دکھاتا ہے۔جو گڑھا ہے اس کو گڑھا دکھائے گا ، جو پہاڑی ہے اس کو پہاڑی دکھائے گا ، جو کالا ہے اس کو کالا دکھائے گا، جو گورا ہے اس کو گورا دکھائے گا، یہ نور اللہ کی صفات ہیں۔تو انسان کو یہ نظر پیدا کرنی چاہئے جو تقویٰ کے بغیر ہو نہیں سکتی اور تقویٰ کی نظر ایسی واضح اور روشن ہو جاتی ہے کہ کسی کونے کی کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں رہتی اور اس کا نام آنحضرت ﷺ نے فراست رکھا۔فراست کی پتا نہیں کیا تعریفیں دنیا نے کی ہوں گی مگر سب سے اعلیٰ اور سب سے روشن تعریف فراست کی یہ ہے کہ ہر چیز کو اس کے اپنے اصل حال اور صحیح حال کے اوپر دیکھ لے۔اپنے مقام اور مرتبے کے مطابق نہ اس میں مبالغہ ہو، نہ کوئی کمی ہو۔یہ میچ فراست ہے اور یہ اسی کو نصیب ہوتی ہے جو اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔تو اعلیٰ اخلاق پیدا ہوں تو فراست کا پیدا ہونا بھی لازم ہے اور فراست پیدا نہ ہوتو اعلیٰ اخلاق قائم نہیں ہو سکتے اور فراست کا برعکس یہ ہے کہ انسان خدا کے نور سے نہ دیکھے اور یہ روز مرہ کی جو پہچان ہے یہ اگر انسان ذرا بھی غور کرے تو کچھ مشکل نہیں ہے ، ہر انسان اپنے متعلق غور کر کے دیکھ سکتا ہے کہ دیکھیں کتنا کس طرح اس کے جو قریب ہے وہ سب اچھے ہو جاتے ہیں جو اس سے دور ہیں وہ سارے برے ہو جاتے ہیں اور کوئی شخص جو قریب تھا اگر کسی وجہ سے اس سے ناراض ہو گیا تو اچانک اس میں سب برائیاں آجاتی ہیں۔یہ اللہ کے نور سے دیکھنے والی بات نہیں ہے۔یہ تعصبات کی دنیا ہے اور تعصبات کا نور سے کوئی تعلق نہیں ہے۔تعصب رکھنا یہ بدخلقی کی بدترین قسموں میں سے ایک ہے۔پس بات آپ کسی حوالہ سے شروع کریں کسی اصطلاح میں کریں و ہیں تو حید پر ہی بات جا کے ٹوٹے گی اگر آپ کے اندر تضادات ہیں تو آپ تو حید سے دور ہیں۔اگر آپ کے اندر تضادات ہیں تو آپ کا خلق خدا کے خلق سے دور ہے اور اسی حد تک آپ کے اندر کمزوریاں اور بیماریاں اور نقائص پائے جاتے ہیں۔جب تک آپ ان تضادات کو دور نہیں کرتے آپ کا توحید باری تعالیٰ سے تعلق قائم نہیں ہوسکتا اور توحید کے بغیر آپ دنیا میں انقلاب بر پا نہیں کر سکتے۔پس خلق کی بلندی در حقیقت توحید ہی کا دوسرا نام ہے۔خلق توحید کی طرف لے کے جاتا ہے اور توحید خلق میں ایک نئی جلا پیدا کرتی ہے اور جب تو حید کے اثر سے اخلاق ترقی کرتے ہیں تو کھرے کھوٹے کی تمیز تو رہتی ہے لیکن نا انصافی اڑ جاتی ہے اور کھرے کھوٹے کی تمیز ہوتے ہوئے بھی نا انصافی کا ایک ذرہ دخل