خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 393 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 393

خطبات طاہر جلد 14 393 خطبہ جمعہ 2 / جون 1995ء میں نے سپردگی کا سودا کیا ہے تو کیسے ممکن ہے کہ ہر شخص از خود ہی اس میں پاس ہوتا چلا جائے اس کا کوئی امتحان نہ ہو۔پس خدا مال لیتا ہے اس امتحان کی وجہ سے واقعہ تم نے سپرد کیا ہے یا نہیں کیا۔اگر سپر د کر بیٹھے ہو تو پھر اگلا قدم یہ ضمانت کا ہے کہ چونکہ تم سلامتی کے امتحان میں پورا اترے اور آپ کو مالی لحاظ سے بھی خدا کے سپرد کر دیا اس لئے اب سے تمہارے مال کی حفاظت کا ذمہ دار خدا ہے۔تمہاری ساری ضرورتیں وہ پوری کرے گا۔تمہیں ہر نقصان سے بچائے گا اور وہ لوگ جو اپنا تجربہ رکھتے ہیں اور دوسروں کا بھی تجربہ رکھتے ہیں جو جماعت احمدیہ کی تاریخ سے واقف ہیں وہ قطعی طور پر خدا کے پاک ناموں کی قسمیں کھا کر یہ گواہی دے سکتے ہیں کہ اس وعدے میں خدا ہمیشہ سچا نکلتا ہے بھی اپنی راہ میں خلوص کے ساتھ قربانی کرنے والوں کو ذلیل ورسوا نہیں کرتا بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگ جو ولی بن جاتے ہیں۔یہ ولی بھی ایسے لوگوں کی تعریف ہے جو اپنے آپ کو سپرد کر دیتے ہیں تو انبیاء سے نیچے وہ ولی کہلاتے ہیں۔فرمایا اللہ تعالیٰ ولیوں کی اولا د کوسات پشتوں تک بھوکا نہیں رکھتا اور سات پشتوں تک ان کو دوسرے کے سامنے ذلیل اور رسوا نہیں ہونے دیتا لیکن اس ضمن میں بعض استثناء بھی دکھائی دیتے ہیں۔وہ کیوں ہیں۔اس بحث کو میں یہاں نہیں چھیڑنا چاہتا۔غالباً میں نے اپنے ایک پرانے خطبہ جمعہ میں اس مضمون پر تفصیل سے روشنی ڈالی تھی۔اب میں واپس آتا ہوں اس طرف کہ جماعت احمدیہ کو جو ضرورت ہے وہ ضرورت اللہ نے پوری کرنی ہے اور نظام جماعت ” سلام میں داخل ہے۔اگر نظام جماعت کا کوئی نمائندہ اس وجہ سے کسی شخص سے نظام کے خلاف رعایت کا سلوک کرتا ہے، سمجھتا ہے کہ اس کی ضرورت ہے اس کے سامنے جھکنا چاہئے ، وہ امیر ہے، وہ صاحب ثروت ہے، وہ سیاسی لحاظ والا ہے۔اس لئے اس کے سامنے اگر نظام بعض باتوں سے آنکھیں بند کر لے اور اس کے فوائد پر نظر رکھتے ہوئے اس سے نرمی کا سلوک کرے تو یہ شرک ہے ، یہ سلام کے مضمون کے خلاف ہے۔جہاں تک قانون کا تعلق ہے۔اللہ تعالیٰ کے جاری کردہ قانون میں اگر کوئی شخص صرف نظر کرتے ہوئے اندرونی خطروں کے نتیجے میں جو اس دل میں کہیں نہ کہیں پنپ رہے ہیں۔اس ڈر سے کہ اس بڑے آدمی سے اگر نظام جماعت کا عام سلوک کیا گیا تو یہ منہ موڑ لے گا۔اس کی اولاد چلی جائے گی ، اس کا جتھہ ہاتھ سے جاتا رہے گا۔جب کوئی شخص ایسی بات سوچتا ہے تو مشرک ہو جاتا