خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 392
خطبات طاہر جلد 14 392 خطبہ جمعہ 2 / جون 1995ء میں بچاتا ہے آپ کے اندرونی نقص پر بھی نظر رکھتا ہے کیونکہ آپ نے اندرونی طور پر بھی اپنے نفس کو ترک کر کے اس کے حضور سر تسلیم خم کر دیا۔تو ایسا شخص جو سلام کے تعلق میں آجائے سلام کی چادر اوڑھ لے۔اس کو پھر کوئی خطرہ نہیں۔اس کے تمام کام پھر اللہ خود بناتا ہے جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام کی مثال یں نے دی تھی۔تو سلام کی تعریف اللہ نے یہ فرمائی إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ کہ مومنوں سے خدا نے ان کی جانوں کا بھی سودا کر لیا ہے ان کے اموال کا بھی سودا کر لیا ہے اور چونکہ وہ سلام ہے اسلئے غنی ہے۔نظام جماعت کو کوئی شخص اپنی مد کا ہاتھ کھینچ کر یا اپنی دولت واپس لے کر یا مالی مدد سے ہاتھ اُٹھا کر ایک ادنی ذرہ بھر بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا ہاں اپنا نقصان کرے گا۔پس مجلس شوریٰ جو UK میں منعقد ہو رہی ہے۔میں ان کو پوری طرح حوصلہ دلاتا ہوں کہ اپنے طور پر وہی کریں جو خدا کرتا ہے یعنی سلام کے جو طور اور انداز ہیں وہ اختیار کریں۔ناقص بیج کو بے وجہ اس خوف سے کہ ہمارے اندر کمی نہ آئے اوپر نہ لائیں اور جو اچھا ہے آپ کی نظر میں چاہے کمزور بھی ہوا گر تقویٰ رکھتا ہے اور خدا کی سلامتی کی تعریف میں داخل ہے اس کے اوپر اعتبار کریں تمام برکتیں ایسے عہدیداران میں ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو خدا کے سپرد کیا ہوا ہے کیونکہ ان کے گرد خدا کی سلامتی کا دائرہ ہے جو ان کی حفاظت کر رہا ہے ، ان کے گرد دخدا کی سلامتی کی ایک فصیل ہے جو ان کو ہر خطرے سے بچائے ہوئے ہے۔پس ایسے لوگ جب نظام جماعت میں کام کرتے ہیں تو ان کے کاموں میں بھی وہی سلامتی کی برکتیں ملتی ہیں۔وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ یہ تو دنیا داری ہے جو آپ لوگ چندوں پر زور دیتے ہیں۔چندہ نہ دیا جائے یا کمزوری دکھائی جائے تو وہ کہتے ہیں کہ تم ووٹ نہیں دے سکتے۔یہ بھی دراصل ان کا تکبر ہے اور وہ یہ نہیں سمجھتے کہ جب وہ چندہ دیتے ہیں تو اللہ کو اس کی کوئی حرص نہیں ہے۔دو اصول پیش نظر رکھنے چاہئیں۔اللہ اگر چاہتا تو اپنے نظام کو کبھی بندے کی احتیاج سے اس طرح بھی کلیۂ پاک کر سکتا تھا کہ کسی سے چندہ مانگنے کی ضرورت پیش نہ آئے وہ جہاں سے چاہتا اور جس طرح چاہتا اپنے نظام کی ضرورتیں پوری فرما سکتا تھا۔پھر چندے کا نظام کیوں ہے؟ اس لئے کہ سپردگی کا امتحان ہے اور بغیر اس امتحان میں کامیاب ہوئے کوئی شخص سلامتی میں داخل نہیں ہو سکتا۔سپر دگی میں جان بھی ہے اور مال بھی۔پس جب خدا کہتا ہے کہ تم سے