خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 391
خطبات طاہر جلد 14 391 خطبہ جمعہ 2 / جون 1995ء تعلقات میں منسلک ہو کچھ بھی نہیں ملتا لیکن لوگوں کو یہ علم نہیں کہ خدا کا یہ نظام وہاں بھی کارفرما ہے کہ ہمیشہ اس کو واپس کرتا ہے اولاد کی صورت میں جو سب سے اعلیٰ ہو یعنی اس مادے کے اندر جتنے بھی جراثیم ہیں ان کی دوڑ کرواتا ہے، ان کا مقابلہ کرواتا ہے۔ان میں سے جو کمزور ہیں، جو ناقص ہیں وہ وہاں اس مقام تک پہنچ ہی نہیں سکتے جہاں جا کر پھر بچے کی شکل اختیار کرنی ہے اور جو پہنچ جاتے ہیں غلطی سے یا کسی آدمی میں کمزور ہی کمزور ہوں سب جرثومے تو پھر وہ پہنتے نہیں۔پہنیں گے تو بیمار بچے کو پیدا کریں گے لیکن اس میں بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جو بیمار بچے کی صورت میں بھی ہمیں دکھائی دے رہا ہے۔بیمار بچہ پیدا کرنے کا نقص خدا کا نہیں، قانون قدرت کا نہیں۔وہ جو کچھ بھی گیا تھا اس میں سے سب سے اچھا وہ بھی بیمار ہی تھا تو اسے لوٹا کر ہمیں سبق دیا گیا کہ تمہارے اندر زیادہ سے زیادہ جو صلاحیت تھی وہ یہ تھی اور اس صلاحیت کو کم سے کم اس شکل میں دے دینا کہ وہ باہر نکل کر ایک آزاد زندگی اختیار کر سکے۔یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل اور رحم ہے ورنہ تمہاری صلاحیت سے یہ بات بڑھ کر تھی۔پس جو یہ نظام ہے کہ خدا رکھتا نہیں واپس کرتا ہے یہ تمام کائنات پر حاوی ہے۔اس میں کوئی استثناء نہیں ہے جو رکھتا ہے اس سے بہتر واپس کرتا ہے اور جو رکھتا ہے اس کے رکھنے میں زائد فضل ہے۔پس جتنے بھی بیج ہیں یا پھل نشو و نما پاتے ہیں یا کائنات میں زندگی میں جتنی بھی زندگی کی قسمیں ہیں یہ امتحانات میں آزمائی جاتی ہیں۔ان میں سے ہمیشہ جو سب سے بہتر ہو وہ نشو ونما پا کر آئندہ زمانے میں اس جنس کی نمائندگی کا حق حاصل کرتی چلی جاتی ہے یہ ایک نظام ہے کوئی اتفاقی حادثہ نہیں۔پس ڈارون نے جب کہا کہ Survival of the fittest تو اس کو کچھ بھی نہیں پتا تھا کہ Fittest ہوتا کیا ہے۔اس نے Survival of the fittest کو اتفاقی حادثات یا موسمی حادثات کا نتیجہ قرار دیا۔یہ بالکل غلط ہے۔یہ Fittest کا نظام اتنا گہرا ہے اور اتنابار یک در بار یک کہ اگر آپ سارے اس نظام پر غور کریں تو اتفاقی حادثہ کے نتیجے میں Fittest کے بچنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اتفاقی حادثات کے نتیجے میں اکثر گندے اور بیمار اور ناقص وجود او پر آئیں گے اور شاذ کے طور پر کوئی اچھا وجود او پر ابھرے گا۔مگر یہ بحث طویل ہے اس کو میں چھوڑتا ہوں۔اتنا اشارہ کافی ہے کہ سلام کے دائرے میں جب آپ داخل ہو جاتے ہیں اپنے آپ کو خدا کے سپر دکرتا دیتے ہیں۔تو پھر آپ کی ہر چیز کا نگہدار وہی بن جاتا ہے۔ہر خطرے سے آپ کو