خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 380
خطبات طاہر جلد 14 380 نے اس کے ظالم نہ ہونے کے منطقی نتیجے کے طور پر بیان فرمایا ہے۔فرماتے ہیں خطبہ جمعہ 26 مئی 1995ء دنیا کے بادشاہوں کی طرح داغ دار بادشاہ ہوتا جو دنیا کے لئے قانون بناتے ہیں، بات بات پر بگڑتے ہیں اور اپنی خود غرضی کے وقتوں پر جب دیکھتے ہیں کہ ظلم کے بغیر چارہ نہیں تو ظلم کو شیر مادر سمجھ لیتے ہیں“۔اگر خدا ایسا ہوتا تو پھر خدا بھی ظلم کے بغیر رہ نہیں سکتا تھا کیونکہ بادشاہوں کا ظلم ان کی بے اختیاری کے نتیجے میں ان کے لئے لازم ہو جاتا ہے۔اس مضمون کی وضاحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں۔مثلاً قانون شاہی جائز رکھتا ہے کہ ایک جہاز کو بچانے کے لئے ایک کشتی کے سواروں کو تباہی میں ڈال دیا جائے اور ہلاک کر دیا جائے۔۔۔“ تو یہ بادشاہ کے لئے مجبوری کا فیصلہ ہے اور دنیا کی تمام حکومتوں میں ہمیشہ سے یہ ہوتا چلا آیا ہے اور آج کے زمانے میں بھی یہی ہوتا ہے جیسا کہ حضرت یونس نبی جب کشتی میں سوار تھے تو جب کشتی ڈولی ہے اور خطرہ پیدا ہوا ہے کہ ڈوب جائے گی اور ایک شخص کا بوجھ کم کرنا چاہئے تو قرعہ حضرت یونس کے نام نکلا اور ہے یہ ظلم کہ ایک معصوم آدمی کو پھینک دیا جائے باقیوں کو کیوں نہ پھینکا جائے، کس کو پھینکا جائے کس کو نہ پھینکا جائے۔جہاں وجہ ترجیح باقی نہ رہی وہاں ظلم شروع ہو گیا۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں یہ دنیاوی بادشاہوں کی بے اختیاری کی نشانی ہے مجبوری ہے جب وہ دیکھتے ہیں کہ ایک کشتی کے سواروں کو ہلاک کرنے سے پورے جہاز کی سواریاں بچ سکتی ہیں تو کہتے ہیں کہ اس کو قربان کر دو کوئی فرق نہیں پڑتا مگر اللہ تعالیٰ کے ہاں ایسی کوئی مجبوری نہیں ہے فرماتے ہیں۔مگر خدا کو تو یہ اضطرار پیش نہیں آنا چاہئے۔پس اگر خدا پورا قادر اور عدم سے پیدا کرنے والا نہ ہوتا تو یا تو وہ کمزور راجوں کی طرح ( راج سے مراد یہاں بادشاہ یا ریاستوں کے سر براہ ہیں ) قدرت کی جگہ ظلم سے کام لیتا یا عادل بن کر خدائی کو ہی الوداع کہہ دیتا بلکہ خدا کا جہاز تمام قدرتوں کے ساتھ سچے انصاف پر چل رہا ہے۔پھر فرمایا۔السّلام یعنی وہ خدا جو تمام عیبوں اور مصائب اور تختیوں سے محفوظ ہے، ( محفوظ ہی نہیں) بلکہ سلامتی دینے والا ہے۔“ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد 10 صفحه : 374)