خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 379
خطبات طاہر جلد 14 379 خطبہ جمعہ 26 رمئی 1995ء نہ ہو وہ ظلم کرنے پر مجبور ہو جایا کرتا ہے مگر اللہ کا ظالم نہ ہونا اس کی عظیم الشان صفات یا مقدرتوں کے نتیجے میں ہے۔اس کی تشریح حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔۔۔۔اگر وہ ایسا خالق اور قادر نہ ہوتا تو پھر بر ظلم کے اس کی بادشاہت چل نہ سکتی۔۔۔“ اور بہت سی وجوہات کے علاوہ ایک یہ وجہ بیان فرمائی ہے۔"۔۔۔کیونکہ وہ دنیا کو ایک مرتبہ معافی اور نجات دے کر پھر دوسری دنیا کہاں سے لاتا۔کیا نجات یافتہ لوگوں کو دنیا میں بھیجنے کے لئے پھر پکڑتا اور ظلم کی راہ سے اپنی معافی اور نجات دہی کو واپس لے لیتا۔۔۔“ یہ وہ مضمون ہے جس کا ذکر آپ کو براہین احمدیہ میں آریوں کے ساتھ بحث میں ملتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی مضمون میں خدا تعالیٰ کے ہمیشہ سے ہونے ہی کی نہیں بلکہ خالق ہونے کی دلیل نکالی ہے اور باری ہونے کی دلیل نکالی ہے۔آپ فرماتے ہیں۔جو شخص نئی چیزیں پیدا نہیں کر سکتا اور روحیں ہمیشہ سے ہیں جیسا کہ آریہ سمجھتے ہیں تو پھر جب ان کو معاف کر دیا تو وہ سب روحیں خدا کے دائرہ اختیار سے ایک طرف ہٹتی چلی جائیں گی۔دائمی نجات حاصل کر کے ان کو دوبارہ دارالعمل میں نہیں بھیجا جا سکتا اور اگر بھیجا جائے تو ظلم ہوگا کہ ایک ہاتھ سے تو معافی دی دوسرے ہاتھ سے معافی واپس لے لی۔پس خدا تعالیٰ کا ظالم نہ ہونا اس بات کا متقاضی ہے، اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک مخلوق کی بجائے جب چاہے دوسری مخلوق پیدا کر سکے۔پس اگر ایک مخلوق کو معافی دے کر دار العمل سے ہمیشہ کے لئے نجات بخش دی ہے تو اس کی دنیا مخلوقات سے خالی نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ نئی پیدا کرتا چلا جاتا ہے اور یہ اس کے دائمی ہونے کا ایک ثبوت ہے۔ورنہ اگر وہ ایک دفعہ روحوں کو معافی دے دیتا اور ظلم نہ کرتا تو چونکہ ازل کا کوئی کنارہ نہیں ہے اس لئے لامتناہی مدت پہلے جس کا انسان تصور بھی نہیں باندھ سکتا تمام مخلوق خدا کے قبضہ قدرت سے باہر نکل چکی ہوتی اور چونکہ ایسا نہیں ہوا اس واسطے یہ عالم کون و مکان اس بات کا گواہ ہے کہ خداوہ خدا ہے جو ہمیشہ سے موجود روحوں کا محتاج نہیں، ہمیشہ سے موجود مادے کا محتاج نہیں ہے بلکہ جب چاہتا ہے نئی روحیں پیدا کرتا ہے، جب چاہتا ہے نیا مادہ پیدا کرتا ہے وہ صرف حسن “ کہتا ہے اور اس کے ارادے سے ہر چیز وجود میں آجاتی ہے یہ وہ مضمون ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام