خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 378
خطبات طاہر جلد 14 378 خطبہ جمعہ 26 رمئی 1995ء ہے۔مگر اللہ کی بادشاہت کو ایک ذرہ بھی فرق نہیں پڑ سکتا۔اگر تمام مخلوقات اس سے روگردانی کریں تو وہ ان سے بہتر مخلوقات پیدا کر سکتا ہے اور یہ جو خیال ہے یہ ایک تصور کی بات نہیں قرآن کریم میں بعینہ یہی مضمون بیان ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے بنی نوع انسان ہم تمہیں متنبہ کرتے ہیں کہ اگر تم نے صحیح روش اختیار نہ کی تو خدا اس بات پر قادر ہے کہ تمہیں فنا کر دے اور تمہاری جگہ تم سے بہتر مخلوق بنالائے اور وہ مخلوق ایسی ہوگی کہ پھر تمہاری طرح نافرمانی نہیں کرے گی بلکہ تم سے بہتر اخلاق کا مظاہرہ کرے گی۔تو وہ بادشاہ جو عیب سے پاک ہے اس کو کسی کی حاجت نہیں ہے۔پس خالق ہونا اور قادر ہونا یہ چونکہ عیب سے پاک ہونے کی نشانی ہے اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ن الْمَلِكُ القدوس کے ضمن میں دوسری صفات وہ بیان فرما ئیں جن کا یہاں بظاہر ذکر نہیں ملتا لیکن انہی مذکورہ صفات سے وہ پیدا ہوتی ہیں۔فرمایا ، بادشاہ جو قدوس ہو اس کا لازما یہ معنی ہے کہ ہر عیب سے پاک ہے اور اللہ کی بادشاہت عیب سے پاک ہو نہیں سکتی جب تک کہ وہ قادر نہ ہو، جب تک کہ وہ خالق نہ ہو، جب تک کہ وہ بدیع نہ ہو اور ان تمام صفات کے نتیجے میں اس کی ملکیت ہر عیب سے پاک بن کر ابھرتی ہے۔پس جیسا کہ میں نے ایک دفعہ پہلے بیان کیا تھا صفات کی کوکھ سے دوسری صفات پھوٹتی ہیں اور قرآن کریم میں جو سورۃ فاتحہ میں چار صفات بیان ہوئی ہیں ان پر اگر آپ غور کریں یعنی گہرائی سے غور کریں اور دعا کے ذریعہ توفیق مانگیں تو پھر آپ حیران رہ جائیں گے یہ دیکھ کر کہ ان صفات سے تمام صفات باری تعالیٰ کا ایسا ہی تعلق ہے جیسا ماں کا بچے سے ہے۔ماں کی صفات جس طرح بچہ حاصل کرتا ہے اور نئی چیز لے کر نہیں آتا اسی طرح قرآن کریم کی تمام صفات رب، رحمن ، رحیم اور ملِكِ يَوْمِ الدِّینِ کی صفات کے بچے ہیں اور انہیں سے پھوٹتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اگر وہ ایسا خالق اور قادر نہ ہوتا تو پھر بجر ظلم کے اس کی بادشاہت چل نہ سکتی۔۔۔“ اب یہ بھی بہت اہم مضمون ہے قدوس خدا جو ہر عیب سے پاک ہے چونکہ اس کا قادر ہونا ضروری ہے اس کا خالق ہونا ضروری ہے اس لئے وہ ظلم سے پاک ہے اور کوئی بادشاہ جو خالق اور قادر