خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 377
خطبات طاہر جلد 14 377 خطبہ جمعہ 26 رمئی 1995ء کے لئے ظاہر کرتا ہے جیسا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے لئے حیرت انگیز طریق پر انعام پر انعام نازل فرمائے۔پس غیب کے مضمون کو غائب کے معنوں میں نہ سمجھیں۔غیب سے آپ کا حال بھی پھل پاتا ہے، آپ کی شہادت بھی رونق پاتی ہے اور آپ کا مستقبل بھی علِمُ الْغَيْبِ خدا سے تعلق جوڑنے کے نتیجہ میں سنورتا ہے اگر آپ غیب کا حق ادا کرنا خدا سے سیکھ لیں اور غیو بیت میں اس دنیا میں امانت اور صداقت کے حقوق ادا کرنا سیکھ لیں۔بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہاں اس موقع پر فرماتے ہیں کہ وو۔۔تمام رعیت قحط زدہ ہو جائے۔“ اب کسی کو کیا پتا کہ کل کیا ہونے والا ہے اور بادشاہت اس کے ساتھ ہی جاتی رہے گی۔فرماتے ہیں:۔۔اور کچھ نہیں تو اگر بغاوت کے آثار ظاہر ہوں اور ایک رعیت کہنے لگے کہ تمہیں ہم پر کیا فضیلت حاصل ہے اور ہم تمہاری بادشاہت کو تسلیم نہیں کرتے۔“ اب یہ وہ بات ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال کے کچھ عرصہ بعد روس میں عملاً ظاہر ہوئی اور زار کی زاریت کے جو ٹکڑے اڑے ہیں وہ اسی باغیانہ روش کے نتیجے میں اڑے ہیں جس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ: زار بھی ہوگا تو ہوگا اس گھڑی باحال زار تو غیب کی خبروں کے ذکر میں اللہ تعالیٰ آپ کی زبان سے بھی غیب کی باتیں جاری فرمارہا تھا۔پھر فرماتے ہیں کہ وو۔۔۔وہ ایک دم میں تمام ملک کو فنا کر کے اور مخلوقات پیدا کر سکتا ہے۔۔۔66 اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 373) یہ جو اللہ تعالیٰ کا اختیار ہے یہ اسے دوسروں کے سامنے جھکنے سے آزاد کر دیتا ہے۔اگر بادشاہ کی رعیت اسے چھوڑ جائے یا بغاوت کر جائے یا ملک کسی اور طریقے سے مصیبتوں کا شکار ہو جائے تو براہ راست بادشاہ کی بادشاہت ختم ہوتی ہے کیونکہ وہ قادر نہیں ہے، تو انا نہیں ہے، خالق نہیں