خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 374
خطبات طاہر جلد 14 374 خطبہ جمعہ 26 رمئی 1995ء لیے نہ کچھ دینے کے لئے نہ چھینے کے لئے کچھ ہے۔پس ہر دوسری چوکھٹ سے یہ مضمون آزادی دلاتا ہے۔انسان کو کامل طور پر غیر اللہ سے آزاد کرنے والا مضمون ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسی ذکر میں بیان فرما کر پھر اَلْمَلِكُ الْقُدُّوسُ کی بات کرتے ہیں۔یعنی یہ ایک ضمنی بات تھی تا کہ مالک کے مضمون کو بھی سمجھیں اور پھر اَلْمَلِكُ الْقُدُّوسُ جو قرآن کریم میں ان آیات کے اندر بیان ہوا ہے جو میں نے ابھی آپ کے سامنے تلاوت کی تھیں اس مضمون کو سمجھاتے ہوئے فرماتے ہیں۔یعنی وہ خدا بادشاہ ہے جس پر کوئی داغ عیب نہیں“۔اب یہ پہلی دفعہ ایک ایسا مضمون ہے جو آپ کو مالک اور قدوس میں دکھائی دے گا۔ہر تفسیر یہاں بالکل نئی ہے اور ایسی تفسیر ہے جو لازماً الہامی ہے اس کے بغیر انسان کی ان امور تک رسائی ممکن نہیں ہے الملک کو تمام تفاسیر میں الگ باندھا جاتا ہے۔اس پر الگ بحث کی جاتی ہے اور قدوس پر الگ بحث کی جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ کا مطلب ہے کہ ایسا بادشاہ جو ہر عیب سے پاک بادشاہ ہے اور قدوس کے ساتھ ملائے بغیر خدا کی ملکیت کی کچھ سمجھ نہیں آسکتی اور اس کی شان ظاہر کرنے کے لئے لازم ہے کہ ہم اسے قدوس کے ساتھ اکٹھا ان معنوں میں پڑھیں کہ وہ مالک جو ہر عیب سے پاک ہے۔یہ مضمون بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔" یعنی وہ خدا بادشاہ ہے جس پر کوئی داغ عیب نہیں یہ ظاہر ہے کہ انسانی بادشاہت عیب سے خالی نہیں ہے۔۔۔“ یعنی ہر دوسری بادشاہت سے المالک القدوس کی جو بریکٹ ہے اکٹھی ، اس نے اللہ کو ممتاز کر کے الگ کر دیا۔کسی اور بادشاہ کو اللہ تعالیٰ سے ان معنوں میں کوئی مشابہت نہیں رہی باوجود اس کے کہ ہر بادشاہ بادشاہ ہی کہلاتا ہے۔فرق کیا ہے۔وہ بادشاہ قدوس نہیں ہے اور اللہ قدوس ہے۔قدوس ہونے کے نتیجے میں اس کی بادشاہت میں کیا فرق پیدا ہوتا ہے اس ذکر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: یہ ظاہر ہے کہ انسانی بادشاہت عیب سے خالی نہیں اگر مثلاً تمام رعیت جلا وطن ہو کر دوسرے ملک کی طرف بھاگ جاوے تو پھر بادشاہی قائم