خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 363
خطبات طاہر جلد 14 363 خطبہ جمعہ 19 مئی 1995ء حضرت یوسف نے جب آپ کو خزانوں کی کنجی دی جارہی تھی یا دی جانی تھی فرمایا کہ نہیں جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے کہ لَمْ أَخُنُهُ بِالْغَيْبِ (یوسف:53) میں نے گھر کے مالک کی اس کے غائب ہونے کے باوجود خیانت نہیں کی اس وقت تک میں اسے قبول نہیں کروں گا۔یہ ناشکری نہیں تھی بلکہ یہ بہت ہی گہرا عارفانہ مطالبہ تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ اگر میں ایک گھر کی حفاظت بھی نہیں کر سکتا، اگر میں ایسا خائن ہوں کہ ایک معمولی گھر کی ملکیت کے معاملے میں بھی خیانت مجھ پر غالب آگئی تو اتنے بڑے وسیع ملک کے خزانوں کی چابیاں مجھے کیوں سونپی جائیں۔پس میں اس لائق نہیں ٹھہرتا۔یہ پہلے پتا کر لو کہ میں وہاں دیانت کے تقاضے پورے کر رہا تھا کہ نہیں اور ساتھ ہی آپ کی بریت ہو گئی جس کی بڑی ضرورت تھی۔اس بریت کے بغیر بعض دفعہ ایسے حالات میں الزام بھی لگ جایا کرتے ہیں اور سورہ یوسف سے بھی اس کا ثبوت ملتا ہے۔آپ کے بھائی کے متعلق کہہ نہیں دیا تھا انہوں نے حضرت یوسف کو متہم کرتے ہوئے یہ چونکہ سمجھ بیٹھے تھے کہ واقعہ چوری کی ہے تو اس الزام کو حضرت یوسف پر بھی تھوپنے کی کوشش کی کہ اس کے بھائی نے بھی ایک دفعہ چوری کی تھی حالانکہ یہ بالکل جھوٹ اور بہتان تھا۔تو حضرت یوسف اگر خود نعوذ باللہ من ذالک اس خیانت کے طعن سے باہر نہ آتے تو پھر جس شان اور آزادی کے ساتھ اور کامل یقین اور اعتماد کے ساتھ آپ نے اس سات سالہ قحط کے دوران ملک کی عظیم خدمت کی ہے اس کی توفیق نہ مل سکتی تھی۔کئی لوگ کہہ سکتے تھے دیکھو انہوں نے اپنوں کو یہ دے دیا ، فلاں کو یہ کر دیا۔پس غیب کا مضمون خدا ہی سے نہیں، گناہ کے تعلق میں بندے سے بھی تعلق رکھتا ہے اور چھوٹی سی امانت تھی اس میں خیانت نہیں کی تو خدا کی دین دیکھیں تمام ملک کے خزانوں کی چابی آپ کو پکڑا دی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے فیضان کا جاری ہونا اس کے بندوں سے آپ کے سلوک کے ساتھ تعلق رکھتا ہے جب غیو بیت کا مضمون سمجھ کر آپ بندوں کی ، ان کے غیب میں خیانت نہیں کریں گے تو یاد رکھیں آپ کے اموال میں برکت ملے گی لیکن وہ لوگ جو روز مرہ کی تجارتوں میں جہاں نظر اچٹی کسی کی وہاں خیانت شروع کر دی ان کے اموال میں یا تو برکت نہیں رہے گی وہ ضائع ہو جائیں گے یا ان کے اموال کے خرچ ان کے لئے لعنت پیدا کر دیں گے ان کی اولاد میں ہاتھ سے نکل جائیں گی، ان کا دین ہاتھ سے جاتا رہے گا، ان کی عاقبت تباہ ہو جائے گی اس لئے یہ مضمون جو صفات باری تعالیٰ کا ہے اسے