خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 362
خطبات طاہر جلد 14 362 خطبہ جمعہ 19 رمئی 1995ء میں ٹھوکر کھا سکوں گا اور ٹھوکر کھا جاؤں گا۔میں سمجھ رہا ہوں کہ میں تجھے دیکھ رہا ہوں اور حاضر سمجھ رہا ہوں لیکن ہزار موڑا ایسے آتے ہیں، ہزار پردے ایسے آتے ہیں، ہزار حالتیں انسانی ذہن کی ایسی ہوتی ہیں کہ جہاں وہ لاشعوری طور پر اندھیروں میں ٹھوکریں کھا جاتا ہے۔تو یہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ” ایک لمحہ بھی غائب نہ ہونا یہ ایک رحمت ہے دراصل۔تو اس حوالے سے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہئے کہ تو تو ایک لمحہ بھی حقیقت میں میرے حال سے غافل نہیں ہے۔اس لئے جہاں میں غافل ہوں وہاں رحم فرما اور میری غفلت کی حالت میں مجھے ٹھوکر سے بچالے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا نظم وضبط اگر متحرک ہو تو لازم ہے کہ ہرلمحہ اس پر نظر ہو۔میں نے اب تو کار چلانی دیر سے چھوڑی ہوئی ہے ، جب چلایا کرتا تھا اچھی تیز چلا تا تھا اور کئی دفعہ ایسا ہوا، ایک دفعہ نہیں کہ چلاتے چلاتے اونگھ آگئی اور پھر بچ بچا کے ٹھیک ہو گیا تو یہ ایک دفعہ نہیں، دودفعہ نہیں ، بیسیوں دفعہ ایسا ہوا ہے۔مگر اب میں غور کر کے پیچھے دیکھتا ہوں تو مجھے یقین ہے کہ یہ کوئی حادثاتی بات نہیں تھی اتفاقی حادثہ نہیں تھا وہ ٹکر ہو جانی چاہئے تھی لیکن خدا تعالیٰ نے جو ہر حال میں موجود بھی ہے، غائب ہوتے ہوئے وہ جب بچانے کا فیصلہ کرتا ہے تو بچا لیتا ہے۔غفلت کی وہ شکل ظاہر نہیں ہوتی جو لازمی حادثے پر منتج ہو۔غفلت کی بعض حالتیں ایسی ہیں کہ جن میں ضروری نہیں کہ حادثہ ہو جائے۔اب میز کے کنارے پر اگر ایک کار کو حرکت دیں تو اکثر امکان ہے کہ وہ ایک کنارے سے باہر جاپڑے گی لیکن بعض ایسی بھی صورتیں ہیں کہ وہ بیچ میں ساتھ ساتھ چلتی رہے، میز کے اندر کی طرف وہ منہ کر لے، گرے نہیں۔تو یہ جو اتفاقات کہے جاتے ہیں ، حادثات کہے جاتے ہیں، ان پر بھی اللہ کی نظر ہے اور ان پر بھی اس کے نظم وضبط کی راج دہانی ہے اور ایک لمحہ بھی ان حادثات سے بھی وہ غافل نہیں ہے۔پس آخری نسخه در اصل علِمُ الْغَيْبِ سے اس سارے مضمون کو سمجھنے کے بعد دعا اور التجا کا نسخہ ہے۔ایک اور امر بہت ہی اہم غیب کے تعلق میں یہ ہے کہ جہاں خدا ہر وقت حاضر سمجھا جائے اور اس کے حضور کے نتیجے میں آپ گناہ سے بچتے ہیں اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ میرے بندوں سے بھی یہ سلوک کرو اور اگر تم اس کے بندوں سے یہ سلوک کرو گے تو خدا کی حفاظت کا ہاتھ زیادہ مستعدی سے تمہاری حفاظت فرمائے گا۔یہ وہ مضمون ہے جس کو سورہ یوسف کے حوالے سے زیادہ آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے۔