خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 356 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 356

خطبات طاہر جلد 14 356 خطبہ جمعہ 19 مئی 1995ء کتاب ہے نہ وہ مادی چیز ہے۔پہلے زمانوں میں جس کو ہم رجسٹر کہا کرتے تھے آج کل کی اصطلاح میں اسے کمپیوٹر کہہ دیتے ہیں۔فرمایا مَالِ هَذَا الكِتُبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً إِلَّا أَخطهَا یہ عجیب قسم کی چیز خدا نے ایجاد کر لی ہے کہ نہ ادنیٰ چھوڑتی ہے، نہ بڑا چھوڑتی ہے، ہر چیز کو سمیٹے ہوئے ہے۔ایک ذرہ بھی اس کے احاطہ تقدیر سے باہر نہیں اور جہاں تک اس کی سرعت کا تعلق ہے، فرماتا ہے وَاللهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ (البقرہ:103 ) کہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر حساب میں سریع ہے ہی کوئی نہیں۔اب قرآن کریم میں سَرِيعُ الْحِسَابِ کا مضمون ملتا ہے۔یہ عجیب بات ہے کہ دوسری کتابوں میں نہیں ملتا۔بہت سے ایسے پہلو میں قرآن کریم کے جن کا حسن مواز نے کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے ورنہ پتا ہی نہیں چلتا۔نہ بائبل میں نہ کسی اور کتاب میں خدا کے حساب دان ہونے کا اور سب سے تیز تر حساب دان ہونے کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔تو سَرِيعُ الْحِسَابِ اس کمپیوٹر کی صفت ہے جو خدا کی تقدیر نے بنا رکھا ہے اور کمپیوٹر کو پڑھنے والا ایک چاہئے۔کمپیوٹر میں اگر اس تیز رفتاری کے ساتھ اعداد و شمار مہیا کرنے کی صلاحیت موجود ہو جس تیز رفتاری سے پڑھنے والا چاہتا ہے تو پھر وہ صحیح اور مقتضائے حال کے مطابق ہے یعنی اس کے بغیر وہ ناقص ہو جائے گا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے سریع الحساب کے ساتھ کس کتاب کا ذکر فرمایا ہے کہ وہ کسی چیز کو چھوڑتی نہیں ان دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر پڑھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ خدا کو جب کسی عدد کی ضرورت ہو بندے کو دکھانے کے لئے یا کسی اور کو بتانے کے لئے کہ دیکھ لو یہی باتیں ایسی ہوئی تھیں۔اس صورت میں اللہ تعالیٰ اس کتاب سے جس میں سب کچھ ہے بلا تاخیر سب کچھ نکال لیتا ہے اور قیامت کے دن جب کوئی بندہ کہے گا جی میں نے تو نہیں ایسا کیا۔اللہ کہے گا یہ دیکھ لوکوئی تاخیر ہی نہیں اس میں۔پس عالم الشهادہ کا بھی ایک معنی اس سے ہماری سمجھ میں آ گیا۔شهاده کا ایک مطلب ہے گواہی دینا۔تو گواہی کی کائنات کا بھی وہی مالک اور عالم ہے اور گواہی دینا بھی اسی کو آتا ہے اور گواہی مہیا کرنا بھی اسی کو آتا ہے۔پس یہ وہ خدا ہے جس کا تصور اگر واضح ہوتا چلا جائے انسان پر اور قرآن کے حوالے کے بغیر یہ تصور از خود واضح ہو ہی نہیں سکتا۔آنحضرت ﷺ کے ارشادات پر غور کئے بغیر اس تصور تک رسائی ناممکن ہے۔مگر اگر یہ ہو تو پھر ان میں ڈوبنے کے بعد یہ مضامین ابھرتے ہیں اور پھر انسان کو سمجھ آتی ہے کہ گناہ سے بچنے کا اصل طریق کیا