خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 355 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 355

خطبات طاہر جلد 14 355 خطبہ جمعہ 19 مئی 1995ء تبھی ممکن ہے اگر انسان خدا کو غیب سمجھ رہا ہو اور وہ موجود ہو۔تو پھر جو غیب ہے موجود ہے وہ سب سے زیادہ رازوں کا واقف بن جاتا ہے اور اگر خطرہ بھی ہو کہ شاید کوئی دیکھنے والی آنکھ ہو تو انسان محتاط ہو جاتا ہے، جانور محتاط ہو جاتے ہیں۔چنانچہ جتنا بھی یہ جاسوسی کا نظام ہے اس میں آلے ایسی جگہوں پر نصب کئے جاتے ہیں اور اس طریق پر نصب کئے جاتے ہیں کہ جس کی جاسوسی کی جارہی ہے اس کو وہم و گمان بھی نہیں ہوتا کہ میں دیکھا جا رہا ہوں اور میری تصویر میں اتاری جارہی ہیں اور یہ نظام ہے جو اللہ فرماتا ہے کہ ہم نے تمہارا کر دیا کسی کونے میں کسی اندھیرے میں ڈوب جاؤ، ہر جگہ تمہیں خدا دیکھ رہا ہے اور تمہارا ریکارڈ مکمل کیا جا رہا ہے اور ایسے فرشتے مقرر ہیں جو ان چیزوں کو ایک کتاب میں ڈھالتے چلے جارہے ہیں۔یہ وہ Ultimate کمپیوٹر کا تصور ہے جس سے آگے کسی کمپیوٹر کا تصور ہو نہیں سکتا۔کمپیوٹر میں دو خوبیاں ہونی چاہیں۔ایک تو یہ کہ وہ متعلقہ مضمون کے ہر پہلو کو ہر لحاظ سے Cover کرے ،اس کو ڈھانپ لے، اس کا دائرہ لے لے اور دوسری اس میں خوبی یہ ہونی چاہئے کہ وہ بہت تیزی کے ساتھ ، بوقت ضرورت مطلوبہ اعداد و شمار کو سامنے لے آئے۔اب یہ دو باتیں ہیں جن کا قرآن کریم میں ذکر ملتا ہے۔ابھی چند دن ہوئے ہمارے ریسرچ گروپ کی ایک خاتون نے مجھ سے سوال کیا کہ وہ جو آپ نے ہمارے سامنے بعض باتیں بیان کی ہیں اور کتاب ایک تھی جو ان کی نظر سے بھی گزری تھی اس سے پتا چلتا ہے کہ آئندہ ہر زمانے کی ایجادات کا قرآن کریم میں ذکر موجود ہے۔حیرت میں انسان ڈوب جاتا ہے۔کوئی ایجا دسوچی نہیں جاسکتی جس کی بنیاد قرآن کریم میں دکھائی نہ دے ، کیا کمپیوٹ کا بھی ذکر ہے۔تو میں نے کہا یہ تو ہو نہیں سکتا کہ نہ ہو لیکن اس کا جواب بعد میں دوں گا تو اب وہ اگر سن رہی ہوں یہ خطبہ تو میں ان کو بتارہا ہوں کہ کمپیوٹر میں دوصفات ہونی چاہئیں۔ایک تو یہ کہ متعلقہ مضمون کی تمام تر معلومات اس میں مہیا ہوں اور ایسے طریق پر مہیا ہوں کہ بلا تاخیر فوراً وہ نظر کے سامنے آجائیں۔اللہ تعالیٰ نے اس کمپیوٹر کا ذکر قرآن کریم میں یوں بیان فرمایا ہے۔ایک موقع پر فرماتا ہے۔مَالِ هَذَا الْكِتُبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصُهَا (الکہف: 50) یہ عجیب کتاب ہے ، کتاب سے مراد کمپیوٹر ہے یہاں یعنی الہی کمپیوٹر جو ظاہری طور پر نہ وہ