خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 346 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 346

خطبات طاہر جلد 14 346 خطبہ جمعہ 12 مئی 1995ء نہیں مگر آئندہ پھر انشاء اللہ جب میں شروع کروں گا تو زیادہ نسبتا تفصیل سے بتاؤں گا۔اسی مضمون کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزَائِنُ اللهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ (الانعام: 51) تو کہہ دے کہ میں یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں وَلَا اَعْلَمُ الْغَيْب اور میں غیب کا علم بھی نہیں رکھتا۔تو حقیقت میں غیب کا علم اور خزائن ایک ہی چیز کے دو نام ہیں اور مغربی دنیا کے سائنس دانوں نے جتنی جستجو کی ہے غیب میں کی ہے اور جتنا وہ غیب زیادہ گہرا تھا اتنا ہی ان کی جستجو نے ان کے لئے زیادہ فوائد مہیا کر دیئے ہیں۔ایک چیز کا دنیا میں کسی کو علم نہ ہو، اب گنجے پن کا علاج ہے یہ غیب میں ہے، اگر آپ کو کامل یقین ہو کہ خدا کے ہاں ہر بیماری کی ایک دوا ہے اور گنجے پن کا ضرور علاج ہے اور آپ غیب میں جستجو کریں مگر اس کے قوانین کے تابع جتنا بڑا غیب ہے اتنا ہی اس کو دریافت کرنے والا کھوجی زیادہ امیر ہو جائے گا اور یہی وجہ ہے کہ انڈسٹریل Secret کے لئے بے انتہا احتیاطیں برتی جاتی ہیں۔ان کے سائنس دان غیب کی خبر معلوم کرتے ہیں اور اس کو خوب چھپا کے رکھتے ہیں ، ان کو پتا ہے دولت ہی دولت ہے۔یہ را از پتا لگ گیا باقیوں کو تو وہ سارے حصہ پا جائیں گے۔تو غیب کا علم ہی خزائن کا علم ہے۔اس بات سے محرومی آپ کو خزائن سے محروم رکھے گی۔پس اللہ تعالیٰ کی صفات پر غور کرنا کوئی صوفیانہ کوئی ذہنی جسکے نہیں ہیں، یہ زندگی کی اشد ترین ضرورت ہے۔روحانی بقاء اس کے بغیر حقیقت میں ممکن ہی نہیں ہے اگر ہے تو معمولی سی زندگی ہے۔ساری زندگی کی منازل اوپر پڑی ہوئی ہیں۔پس اس پہلو سے جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے ساری عمر تو اب صرف اس طرز پر بیان نہیں ہو سکتی بات لیکن جو بھی بات بیان ہوگی آئندہ کسی اور حوالے سے بھی انشاء اللہ اس میں دراصل صفات الہی کی جھلکیوں کے بغیر جان ہی نہیں پڑ سکتی۔خلاصہ زندگی کا اور روحانی زندگی کا صفات الہی ہیں۔پس باقی انشاء اللہ آئندہ خطبے میں خدا تعالیٰ نے جو تو فیق عطا فرمائی۔