خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 339 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 339

خطبات طاہر جلد 14 339 خطبہ جمعہ 12 مئی 1995ء۔رنگ میں پھر ساتھ دیتی ہے اور وہ حاضر کی دنیا میں رحیمیت بن جاتی ہے۔رحمان تو وہ جس نے سب کچھ دے دیا اس کے بعد حاضر دنیا میں اس کے اور بھی معنے ہیں میں اس وقت اس کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا۔میں یہ بتانا چاہتا ہوں اس تعلق میں یہ سمجھ لیں کہ غیب ہے جہاں سے آپ ابھرے۔آپ نے کب مطالبہ کیا تھا کہ اے خدا مجھے پیدا کر اور اے خدا میری یہ یہ ضرورتیں ہیں یہ پیدا کرنا اور جب میں اور میری جنس ترقی کر جائیں تو اس زمانے کی ضرورتیں بھی ہمیں مہیا ہونا شروع ہو جائیں، جب تک ہماری عقل تیل کا استعمال نہ جانتی ہو تیل بے شک نظروں سے اوجھل رہے۔جب ایسی مشینیں سوچنے کی طاقت پیدا ہو جائے اور بنانے کی طاقت پیدا ہو جائے جو تیل کے بغیر چل ہی نہیں سکتیں تو پھر ہمیں تیل بھی عطا کر دینا اور پھر اے خدا جب خطرہ ہو کہ تیل ختم ہونے والا ہے اور انسانی سوچ بھی ایسی مشین ایجاد کر لے یا ان کی صلاحیت رکھتی ہو کہ اٹامک انرجی سے فائدہ اٹھا سکے تو پھر اس پر ایٹم کے راز روشن کرنا اور دھاتیں مہیا کرنا جو ایٹم کی انرجی کو ترقی دینے کے لئے ضروری ہے اور زمین پھر ان بھاری دھاتوں کو اس کے لئے اچھال دے، کیا یہ سب مطالبے آپ میں سے کسی نے کئے تھے؟ ہم میں سے کسی نے کئے تھے؟ جو ہے ہی نہیں وہ غیب میں کچھ بھی نہیں ہے۔وہ تو ایسا غیب ہے کہ اپنے باپ کی شادی سے پہلے وہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ میں تھا تو کہاں تھا ؟ کیا تھا میرا؟ تو کائنات میں زمین کے پیدا ہونے سے پہلے وہ کیا سوچ سکتا تھا؟ کیا مانگ سکتا تھا لیکن رحمان خدا ہے جس کی غیب پر کامل راج دہانی ہے۔اس پہلو سے بھی اس کا توحید سے بڑا گہرا تعلق ہے اول تو یہ کہ ظاہر کی عبادت نہیں کرنی۔اصل غیب ہے غیب کی عبادت کرو گے تو پھر تمہیں حقیقت میں توحید کے معنے سمجھ آئیں گے۔غیب میں جو ہے اس کی عبادت کرو اور خدا کی ذات کی شناخت کوئی انسان خود کر ہی نہیں سکتا مگر جو عرفان اس نے ہمیں بخشا ہے اس سے یہ بات تو قطعی طور پر ثابت ہے کہ خدا کی ذات کا عرفان جتنا عطا بھی کیا گیا ہے اس کا کروڑواں حصہ بھی وہ لوگ نہیں سمجھتے جن کو عطا کیا گیا ہے اور اکثر غیب ہی غیب ہیں۔تو ذات کا سفر کرنا ہو تو غیب کو اہمیت ہے اور غیب میں ڈوبنے اور غور کرنے کی ضرورت ہے۔اگر دوسرے پہلوؤں سے اپنے آغاز اور اپنے انجام کی باتیں سوچیں تب غیب پر غور کرنے کی ضرورت ہے اس کے بغیر آپ کو در حقیقت غیب کی سمجھ نہیں آئے گی اور جب صفت رحمانیت کے ساتھ غیب کا تعلق سوچتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ عالم غیب پر اس کی بلا شرکت غیرے راج دہانی ہے کوئی