خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 337 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 337

خطبات طاہر جلد 14 337 خطبہ جمعہ 12 مئی 1995ء با مقصد ایک منصوبے کے ساتھ ایک چیز کو پیدا فرمایا اور ہر وجود کے ساتھ ایک عالم وابستہ ہے اور اس عالم کوکوئی شخص ماردے تو ایک آدمی نہیں مرا خدا کے بہت سے جلوے جو دیکھے جارہے تھے اب دکھائی نہیں دے رہے۔اسی بات پر غور کرتے ہوئے بعض فلسفیوں نے یہ بھی کہا کہ دراصل علم ہی ہے اور کچھ بھی نہیں۔اگر علم نہ ہو تو ہر چیز ختم ہے۔وہ اس دلیل کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ دیکھ لو ہم سب جوانسان ہیں ہمارا ایک شعور ہے عالم کا۔اگر ہم نہ ہوتے تو کوئی شعور باقی رہتا، کوئی نہ رہتا۔تو جیسا عالم تھا ویسا نہیں۔اس کا ہونا اس کی حرکات ، اس کی مختلف جہتوں سے آپس میں ٹکرانا، یا تعلقات قائم کرنا اور ان کے اثرات پیدا ہونا یہ ساری چیزیں وہ فلسفی کہتے ہیں کہ ہماری سوچ سے تعلق رکھتی ہیں اور ہم نہ ہوں تو کچھ بھی نہیں گویا کل عالم ختم ہو گیا۔مگر قرآن کریم اس مضمون کو سورہ فاتحہ میں ہی تو ڑ رہا ہے الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ تم ہو یا نہ ہو، ایک زاویے سے ایک رب ہے جس کا ہر عالم سے تعلق ہے تمہارے مٹنے سے عالم نہیں مٹ سکے گا کیونکہ تمہارے مٹنے سے اگر کوئی عالم مٹتا ہے تو ایک بہت ہی محدود عالم مٹتا ہے۔ایک ایسا عالم مٹتا ہے جس کے ظاہری کچھ نقوش تمہارے ذہن میں ہیں اس سے زیادہ تمہیں کو ئی علم نہیں اس عالم کے ساتھ جو بے انتہاء غیب وابستہ ہیں ان کا تمہیں کوئی تصور نہیں ہے جوں جوں زمانہ آگے بڑھتا ہے عالم کا تصور پھیلتا چلا جا رہا ہے اور جو تصور پھیلتا ہے وہ یہ بتاتا ہے کہ ابھی ہمیں کچھ بھی حاصل نہیں ہوا اور عالم کا ایک لامتناہی طور پر زیادہ حصہ ہے جو ہماری نظر سے غائب ہے۔تو رَبِّ الْعَلَمِينَ نے یہ بتا دیا کہ واہمہ نہیں ہے عالم جو خدا نے پیدا کیا ہے اس کو کسی موت سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا کیونکہ جو اس کی کنہ کو جانتا ہے جو اس کے غیب کو جانتا ہے جو اس کے حاضر، اس کے شاہد کو جانتا ہے وہ خدا موجود ہے اور اسی کے تعلق سے وہ عالم قائم ہے تو تمہارے مرنے سے کیسے مٹ سکتا ہے مگر تم جب ایک دوسرے کو مارتے ہو تو انسانی سطح پر جو عالم ابھرتے ہیں وہ ایک ابھرے ہوئے عالم کو ڈبو دیتے ہیں اور چونکہ تم مالک نہیں ہو ، رب نہیں ہو اس لئے جواب دہ ہو گے۔تو درحقیقت یہ زندگی کے جتنے ادوار ہیں یہ سب نئے عالم لے کر آتے ہیں۔ایک آج کی نسل کو اگر آپ سو سال دے لیں جیسا کہ حضرت اقدس محمدرسول اللہ اللہ نے ایک موقع پر فرمایا کہ آج سے سو سال تک کوئی بھی وہ نہیں رہے گا جو آج یہاں ہے، سب فنا ہو جائیں گے (مسلم کتاب الفصائل الصحابہ ) یعنی اس میں ایک