خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 330 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 330

خطبات طاہر جلد 14 330 خطبہ جمعہ 12 مئی 1995ء نے یہ فرمایا الْحَمدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ تمام تر تعریف کو ربوبیت کے ساتھ اکٹھا کر دیا اور تمام جہانوں کا رب قرار دے کر تمام تعریف کو اکٹھا کیا۔اب اس پہلو سے صرف الْحَمدُ کے ربوبیت کے تعلق کو ہی آپ دیکھیں تو ایک لامتناہی مضمون ہے جو سلسلہ ختم ہونے میں نہیں آئے گا۔اس لحاظ سے آسان بھی ہے اور مشکل بھی ہے اور جب میں وقت کی کمی کے خیال سے تیز گزرنے کی کوشش کرتا ہوں تو لوگوں کی طرف سے ،اچھے بھلے علماء کی طرف سے بھی یہ خط ملتے ہیں کہ آپ کا مضمون کچھ تو دماغ میں سے گزرا کچھ سر کے اوپر سے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ہم Concentrate نہیں کر سکے اپنے آپ کو پوری طرح۔یعنی غور کرتے کرتے کسی پہلو میں اٹکے ہیں تو دوسرا پہلو گزر گیا۔اس لئے آہستہ بیان کریں۔اب اگر آہستہ بیان کیا جائے تو پھر یہ ساری عمر ایک ہی سلسلہ جاری رہے گا اور ضرورت کی باتیں جو وقتا فوقتا پیش آتی ہیں ان سے کلیۂ صرف نظر کرنا ہوگا اس لئے کوشش کر رہا ہوں ذہنی طور پر کوئی ایسی ترتیب دے لوں کہ کچھ نمونے آپ کے سامنے رکھ دوں اور باقی انہی نمونوں پر غور کر کے آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے علم چاہیں اور خود ہی یہ سفر طے کرنا شروع کریں۔علِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ کی بات ہو رہی تھی۔اب آپ دیکھیں کہ قرآن کریم میں لفظ غیب، 49 دفعہ استعمال ہوا ہے اور قرآن کریم کا یہ اسلوب ہے کہ اگر چہ ایک ہی لفظ بار بار استعمال ہورہا ہے مگر کسی نہ کسی پہلو سے کوئی نیا جلوہ دکھاتا ہے، کوئی نیا رنگ رکھتا ہے اور اس تعلق سے کبھی خدا تعالیٰ کے اسماء پر انسان کو غور کرنے کا موقع ملتا ہے، کبھی مخلوقات کے او پر غور کرنے کا اور ان کی بے بسی کا تصور باندھنے کا موقع ملتا ہے اور چار دفعہ غیوب کا لفظ استعمال ہوا ہے جمع میں علام الغیوب اور جہاں غیب کا ہے وہاں عموماً عَلِمُ الْغَيْبِ ہے جہاں غیوب کا ہے وہاں علام الغیوب ہے یعنی غیب زیادہ ہیں تو علم بھی بہت زیادہ چاہئے اور مبالغہ کی صفت استعمال ہوئی ہے غیر معمولی غیب کا علم رکھنے والا ہے اور غیب ایک نہیں ہے کئی غیب ہیں۔اب یہی مضمون آپ دیکھ لیں غیب ایک نہیں ہے کئی ہیں۔اس پر غور کریں تو عقل ورطۂ حیرت میں ڈوب جاتی ہے اور غیب کا سفر ہمارے علم کے مطابق اپنے تصور میں طے ہو ہی نہیں سکتا، ناممکن ہے کیونکہ ہر غیب کے پیچھے ایک اور غیب ابھرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔اس میں آپ جہات کی بات سوچ