خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 28 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 28

خطبات طاہر جلد 14 28 خطبہ جمعہ 13 جنوری 1995ء نہیں ہوسکتا۔ایسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ میں سے بھی بعض تھے بچپن سے ان کی پرورش ایسی ہوئی ہے یعنی غیر ماحول سے آئے ہیں جہاں وہ گلیوں میں جس طرح Crude and Rough Tough کے ساتھ مقابلے ہوتے ہیں اس طرح ان کی زندگیاں گزریں اور طبیعت میں ایک دبدبہ اور جوش اور سختی سی پیدا ہوگئی۔نیکی نے اس کو بہت نرم کیا مگر ایک حد تک وہاں ایک سختی کی جو ان کی حد جہاں شروع ہوتی تھی وہاں نیکی اس حد کو تو ڑ نہیں سکی، وہ اپنی جگہ قائم رہتی تھی۔نیکی کے دائرے میں بھی وہ قائم رہتی تھی۔چنانچہ ہمارے ایک بزرگ ہوا کرتے تھے وہ الله صحابی تھے ان کے دماغ میں یہ تھا کہ نماز میں جو صف کے آگے سے گزرے گا چونکہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے اس لئے اس کے نتیجے میں کچھ ہونا چاہئے۔اب دیکھیں اخلاق کے نتیجے میں ،اخلاق کے معیار بدلنے سے نیکی کی تعریفیں بھی کتنی بدلتی جاتی ہیں۔ایک آدمی با اخلاق ہے اور اس کے اندر نرمی پائی جاتی ہے اس کی نماز کے سامنے سے کوئی آدمی گزرے گا تو وہ اس کے لئے استغفار کرے گا دعا کرے گا اللہ معافی دے اس کو اور ایک یہ تھے یہ دو قدم آگے بڑھ کے اس زور سے دوھپڑ مارتے تھے اور تھے مضبوط آدمی کہ وہ لڑھکنیاں کھاتا دور جا کے پڑتا تھا اور بعض بچے بے چارے تو حیران رہ جاتے تھے کہ یہ بلا آئی کہاں سے ہے۔بے دھیا نے اپنے خیال میں جارہے ہیں یہ نہیں پتا کہ وہ نماز پڑھ رہے ہیں جن کا اخلاق کا معیار یہ ہے اور وہ ان کو دھکا دے کر پھر جاکے پڑھتے تھے، پھر دیکھ کے اچھا اچھا یہ فلاں صاحب ہیں جو نماز پڑھ رہے تھے تو کافی شہرت ہوئی تھی لوگ ڈر کے گزرا کرتے تھے مگر یہ نہیں میں کہہ رہا کہ چونکہ وہ اس معاملے میں بدخلق تھے اس لئے وہ بے دین بھی تھے نعوذبالله من ذالک۔ان کی ساری زندگی تقویٰ کے ساتھ گزری، نیک مسیح موعود کے صحابہ میں شمار لیکن جب اخلاق کرخت ہوں تو خدا سے تعلق میں بھی ایک حد قائم ہو جاتی ہے اس سے آگے نہیں بڑھ سکتا لیکن جتنے اخلاق اعلیٰ ہوں اللہ کا تعلق بھی اتنا ہی اعلیٰ ہوتا چلا جاتا ہے۔پس آنحضرت ﷺ نے جو تمام انبیاء سے بڑھ کر خدا کا قرب حاصل کیا ہے تو اس کا راز اس بات میں ہے کہ آپ کو مکارم الاخلاق پر فائز کیا گیا تھا۔آپ پہلے ہی اتنے اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے کہ جو سفر وہاں سے شروع کیا ہے اس کے بعد کسی اور کے مقابلے کا سوال ہی نہیں رہتا تھا۔Lead لے گئے ہیں بہت زیادہ اور پھر خدا کے ہر تعلق میں اپنے خلق کو استعمال کیا ہے۔اب تعلق کے