خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 322 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 322

خطبات طاہر جلد 14 322 خطبہ جمعہ 5 مئی 1995ء کہ دنیا نہیں سمجھتی مگر حقیقت یہ ہے کہ مادی علم بھی خدا کے بعض اسماء کی تجلیات کے نتیجے میں دنیا کو عطا ہوتے ہیں اور وہ تجلیات جو ہیں وہ زمانہ نبوت سے تعلق رکھتی ہیں۔ جب خدا ایک نبی پر ظاہر ہوتا ہے اور الہام کے ذریعے بہت سے غیب کے امور کو شہادت میں تبدیل فرما دیتا ہے تو اس کی ایک ایسی روشنی کا انتشار ہوتا ہے جو کل عالم پر فیض برساتی ہے اور اس زمانے کے تقاضے پورے کرنے کے لئے جتنی مزید روشنی کی ضرورت ہے، ورنہ انسان اس روشنی کے بغیر نبی تک پہنچ ہی نہ سکے، وہ روشنی اس کو ضرور عطا کی جاتی ہے۔ صلى الله پس نئے نئے علوم کے انوار بھی درحقیقت الہام سے تعلق رکھتے ہیں ۔ بعض خفیا لہامات ہوتے ہیں بعض ظاہری اور جہری الہامات ہوتے ہیں ۔ تو جب خدا کی تقدیر ایک زمانے کو علم عطا کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تبھی وہ حاصل کرتا ہے۔ چنانچہ اس ضمن میں اِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا (الزلزال :(2) سورۃ زلزال پڑھ کے دیکھیں وہاں صاف پتا چل رہا ہے کہ موجودہ دور کی تمام ترقیات حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے رب کے حوالے سے ہیں ۔ اِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا وَأَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا وَقَالَ الْإِنْسَانُ مَا لَهَا اس قدر ز مین اپنے راز اچھالے گی اور اپنے بھاری راز باہر نکال دے گی کہ تعجب سے انسان دیکھے گا کہ اسے ہو کیا گیا ہے، یہ کیسا زمانہ آگیا ہے يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا اس دن یہ زمین خود اپنی باتیں بتائے گی۔ کیوں بتائے گی بِأَنَّ رَبَّكَ أَوْحَى لَهَا اس لئے کہ اسے محمد ال تیرے رب نے اس پر وحی نازل فرمائی ہے کہ یہ باتیں نکالو اور دنیا کو بتاؤ۔ اب کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ محض قرآن کا ایک دعوی تھا ورنہ ان لوگوں نے تو خود اپنے زور بازو کا تھاور خودا۔ سے سب کچھ حاصل کیا ہے۔ اس بات کی سچائی، اس ثبوت کے طور پر کہ یہ دعوی نہیں تھا ایک عالم الغیب صلى الله اور عالم الشهادة خدا نے تقدیر کے طور پر جاری فرمایا آنحضرت ﷺ کو اس زمانے کے ظہور سے پہلے ان رازوں کی اطلاع دے دی جو اس زمانے میں رونما ہونے تھے۔ چنانچہ قرآن کریم کی وہ سورتیں جو اس زمانے میں ہونے والے واقعات سے تعلق رکھتی ہیں ان کو پڑھیں تو عقل ششدر رہ جاتی ہے کہ کیسے ممکن تھا کہ عرب کے ایک امی پر ایسے علوم ظاہر ہوں جن کو چودہ سو سال کی محنت کے بعد انسان نے کمانا تھا اور ابھی اس سے بھی آگے کے زمانے کے علوم ظاہر فرما دیئے گئے ۔ یہ فرض کی باتیں