خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 321
خطبات طاہر جلد 14 ہے،شک والی بات باقی رہتی ہے۔321 خطبہ جمعہ 5 مئی 1995ء مگر قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِةٍ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ کسی کو بھی غیب پر اظہار نہیں دیتا یعنی غلبہ عطا نہیں فرما تا مگر اپنے کسی رسول کو جس کو چاہے وہ غیب پر اظہار عطا فرما سکتا ہے یا فرما دیتا ہے۔تو غیب سے رسالت کا تعلق ہے اور بہت سے ایسے امور ہیں جو پردہ غیب سے الہام کے ذریعے پردۂ شہود میں ابھرتے رہتے ہیں اور یہی وہ مضمون ہے جس کے نتیجے میں دنیا مسلسل علمی ترقی کر رہی ہے اور اگر چہ خدا کی کائنات میں اضافہ کچھ نہیں کر سکتی مگر خدا کی کائنات پر پہلے سے زیادہ بڑھ کر علم کے ذریعے اس پر ایک قسم کا اظہار حاصل کر لیتی ہے۔ایک قسم کا اظہار سے مراد یہ ہے کہ دنیاوی علوم میں اگر چہ روشنی بھی ہے لیکن بہت سے احتمالات باقی رہتے ہیں کہ وہ بات جس کو وہ یقین سے سمجھ رہا ہے کل غلط ثابت ہو جائے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے اس مضمون پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے کہ کل تک جو بات درست سمجھتے تھے وہ آج غلط نکلی۔آج جو سمجھ رہے ہیں ہوسکتا ہے کل غلط نکلے۔تو ایک شک کا سایہ باقی رہتا ہے لیکن وہ غیب جسے اللہ اپنے رسولوں پر ظاہر فرماتا ہے وہ اظہار کا رنگ رکھتا ہے یعنی اس میں کامل یقین کا مضمون داخل ہو جاتا ہے۔پس کامل علم شہادت کا غیب کے علم کے بغیر ممکن نہیں اور غیب کا علم نبیوں کے سوا بھی نصیب ہوتا ہے مگر نبیوں کو الہاماً عطا ہوتا ہے اور غیر نبیوں کو اپنے نور بصیرت سے عطا ہوتا ہے۔وہ اگر تقویٰ کے قریب تر ہے اور اس میں سچائی ہے تو پھر ایسی جستجو کرنے والے کے لئے زیادہ امکان ہے کہ وہ دن بدن غیب سے چیزوں کو دیکھ کر شاہد یعنی سامنے نظر آنے والی دنیا میں منتقل کرتا رہے۔اس سلسلے میں سائنس نے جتنی ترقی کی ہے یہ سب غیب سے شہادۃ کی طرف کا سفر ہے اور در حقیقت اس میں بھی ایک مخفی الہام کا معنی پایا جاتا ہے۔بعض لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ دیکھو اتنی ترقی کر لی ہے، ایسے ایسے راز دریافت کر لئے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ رسولوں کے سوا یا رسولوں میں سے جس کو چاہے اس کے سوا کسی کو غیب پر غلبہ عطا نہیں کرتا مگران مغربی قوموں کو دیکھ لوان میں دہر یہ بھی ہیں ، ان میں عیسائی یہودی خدا کے دشمن بھی ہیں پھر بھی ان کو اپنے اپنے دائرے میں غیب پر غلبہ عطا ہورہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے یہ فرمایا ہے