خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 318 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 318

خطبات طاہر جلد 14 318 خطبہ جمعہ 5 مئی 1995ء حقیقت معلوم کر کے سب سے اہم چیز غیب کا معلوم کرنا ہے اور غیب کا علم ٹامک ٹوئیوں سے حاصل نہیں ہو سکتا محض اربع لگانے سے نہیں مل سکتا ، زا بچوں سے نہیں حاصل ہو سکتا۔صرف ایک طریق ہے کہ عالم الغیب سے تعلق پیدا ہو اور عالم الغیب سے تعلق کے لئے انسان کا سچا ہونا ضروری ہے عالم الغیب سے تعلق کے لئے دل کا تقویٰ ضروری ہے اس کے بغیر عالم الغیب سے تعلق قائم ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ کسی چیز کو سمجھنے کے لئے جو انسان نظری سفر اختیار کرتا ہے، نظری سے مراد سوچ اور فکر کا جوسفر اختیار کرتا ہے، اس میں ہر قدم پر تقویٰ کی روشنی چاہئے ورنہ ہر چیز غائب میں رہے گی۔یہ تقویٰ ہے جو وہ روشنی مہیا کرتا ہے جس سے قریب کا غیب حاضر میں تبدیل ہوتا رہتا ہے۔اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے رات کو اندھیرے میں آپ سفر کریں کسی ایک کے پاس ٹارچ ہو اور ایک کے پاس نہ ہو۔جو ٹارچ کے ذریعے سفر کرنے والا ہے وہ اندھیرے میں بھی بہت تیزی سے سفر طے کرتا ہے۔سب اندھیروں کے پردے اس کی آنکھیں نہیں پھاڑ سکتیں لیکن ایک حد تک اس کی ٹارچ کی روشنی سرائیت کر جاتی ہے اندھیروں میں اور غیب کو حاضر میں تبدیل کر رہی ہوتی ہے۔مگر جو بغیر کسی روشنی کے سفر کرتا ہے اس کے لئے اندھیروں میں دھکے کھانا اور گمراہ ہونا ہے اس کے سوا اس کا کوئی نصیب نہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کا مضمون شروع میں ہی اس حوالے سے باندھ کر پھر غیب کا ذکر فر مایا ہے۔فرما یا ذلك الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ (البقرہ: 3) یہ وہ کتاب ہے جس میں شک والی کوئی بات نہیں ہے۔ہر بات سچی ہے۔مگر ہدایت ان کے لئے ہے جن کے اندر تقویٰ کی روشنی ہے۔تقویٰ کی تعریف آگے کرتے ہوئے سب سے پہلے اس کا تعلق غیب سے باندھا ہے۔هُدًى لِلْمُتَّقِينَ ) الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَمِمَّا رَزَقْنُهُمْ يُنْفِقُونَ (البقره: 3 تا 4 تقویٰ کی پہلی تعریف یہ ہے کہ وہ غیب پر ایمان لاتے ہیں اور حقیقت میں تقویٰ کے بغیر غیب پر ایمان لایا ہی نہیں جاسکتا۔جیسے ٹارچ کی روشنی کے بغیر اندھیرے میں بھی چھپی ہوئی چیزوں پر یقین نہیں آسکتا۔وہ غیب میں رہتی ہیں لیکن روشنی ان کو کہیں دھند لکے کی فضا میں کچھ چھپی ہوئی ، کچھ ظاہر فضا میں اس کو آپ پر روشن کرتی ہے اور جتنی روشنی تیز ہوگی اتنا ہی یقین بڑھتا چلا جائے گا اور غیب کا مضمون تقویٰ سے اس لحاظ سے تعلق رکھتا ہے کہ