خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 298
خطبات طاہر جلد 14 298 خطبہ جمعہ 28 اپریل 1995ء جوخدا کا نور ہے اس نے جو فیصلہ کرنا تھا وہی فیصلہ متقی اس لئے کرتے ہیں کہ وہ خدا کے نور سے دیکھتے ہیں۔تو جماعت کی حیثیت سے اس بات کی ضمانت ہے اور انشاء اللہ اگر ہم ہمیشہ نگران رہیں، کوشش کرتے رہیں ، دعائیں کرتے رہیں تو بہت لمبے عرصے تک جو ہزار سال سے بھی بڑھ سکتا ہے جماعت انشاء اللہ تقویٰ پر قائم رہتے ہوئے صحیح فیصلے کیا کرے گی مگر نگرانی کی ضرورت ہے اور مجلس شوری اس میں سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے۔اگر مجلس شوری کے انتخاب کے وقت پوری محنت کے ساتھ اور کوشش کے ساتھ سوچ کر ،فکر کر کے انسان یعنی ہر فرد یہ کوشش کرے کہ اپنے میں سے وہ چنے جس کو وہ سمجھتا ہے کہ اللہ کے قریب تر ہے، جس کے متعلق اس کا اندازہ ہے۔اب اگر یہ نیکی سے اندازہ لگاتا ہے، سچائی سے اندازہ لگاتا ہے تو بقیہ کی ضمانت اللہ اس طرح بھی دیتا ہے اس کے فیصلے کی غلطی کو کامیاب نہیں ہونے دیتا۔اس کا ووٹ تو ہوگا اس پر اس کو سزا نہیں ملے گی مگر اکثر کے دل خدا اس طرح مائل فرما دیتا ہے کہ ایک آدمی کی سادگی کی غلطی جماعت کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔یہ ایک قطعی بات ہے اس میں کوئی بھی شک کی گنجائش نہیں۔ساری سو سالہ جماعت کی تاریخ بلکہ اس سے پہلے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے زمانے سے تاریخ اسلام اس بات پر گواہ ہے کہ متقیوں کے فیصلے میں اگر غلطی بھی تھی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل کے ساتھ ان کے فیصلوں کی اصلاح فرما دی اور من حیث الجماعت جماعت کو ان کا نقصان نہیں پہنچنے دیا۔پس مجلس شوریٰ جہاں بھی منعقد ہو رہی ہو یا آئندہ ہو اس کے انتخاب سے بات شروع ہوتی ہے۔وہاں سب سے زیادہ زور دینے کی ضرورت ہے تقویٰ کی اور اگر جماعت کے علم میں ایسے لوگ ہوں جن کا ماضی اس پہلو سے داغ دار ہو تو امیر جماعت کا فرض ہے کہ وہ انتخاب کی کارروائی کی رپورٹ بھیجتے وقت دیانتداری سے بتائے کہ میرے نزدیک فلاں شخص جو منتخب ہوا ہے اس میں یہ عادت ہے۔اس طرح وہ پارٹیوں میں شامل ہوتا ہے۔اس طرح اب تک اس نے بعض دفعہ ایسی حرکات کی ہیں جس سے جماعت کے وقار کو نقصان پہنچا ہے۔اگر امیر یہ لکھے تو پھر اس کا نام منظور نہیں ہوگا لیکن بعض دفعہ امراء یا دوسرے عہدیداران سمجھتے ہیں کہ ہمیں کیا ضرورت ہے بڑا بننے کی۔جہاں یہ کہا وہاں آپ تقویٰ سے گر گئے اور تقویٰ سے گرے تو ان کو اس عہدے سے بھی گرنا چاہئے تھا جو متقیوں کے لئے ہے۔مگر وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی فرق نہیں پڑتا عہدہ اپنی جگہ اور یہ ہوشیاری ہماری اپنی