خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 296
خطبات طاہر جلد 14 296 خطبہ جمعہ 28 اپریل 1995ء آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مومن کی فراست سے ڈرنا فانه يرى بنور الله ترندی کتاب النفسيه حدیث نمبر: ۳۰۵۲) وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔اب یہاں اللہ کے نور سے دیکھنے کا کیا مطلب ہے؟ اصل مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنا تو دیکھنے کا نور کچھ رکھا ہی نہیں۔جو خدا کی طرف سے اس کو بصیرت ملی ہے، جو خدا تعالیٰ کی محبت کے تقاضے ہیں ان سے وہ جانچتا ہے۔تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا نور ہے ہی وہی جو اللہ کا نور ہے۔اس میں اس نے دو چیزیں ملا نہیں دیں۔اپنی ذات کے نور کو الگ قائم نہیں رکھا بلکہ کلیۂ خدا کے نور کے تابع کر دیا ہے۔اگر اس پہلو سے کوئی شخص خدا کی نظر سے دیکھنے کا عادی بن جائے تو کہا جائے گا کہ یہ خدا کے نور سے دیکھتا ہے اور اس کا فیصلہ درست ہوتا ہے بالعموم کیونکہ وہاں پھر اس آیت کی عمل پیرائی ہوگی کہ اللہ ہی ہے جو شہادہ کو بھی جانتا ہے اور غیب کو بھی جانتا ہے۔اس لئے ایسے شخص کا یہ دعوی کرنا تو غلط ہے کہ میں اللہ کے نور سے دیکھتا ہوں اس لئے جس کے متعلق میں بات کروں اس کو مان جاؤ۔جو یہ بات کرے گا وہ ایک بات تو ثابت کر دے گا کہ وہ اللہ کے نور سے نہیں دیکھتا کیونکہ اللہ کے نور سے دیکھتا تو بندے کے متعلق یہ دعوی نہ کرتا اور اپنی ذات کے متعلق یہ دعویٰ نہ کرتا کیونکہ دعوے کا جہاں تک تعلق ہے قرآن کریم فرماتا ہے فَلَا تُزَكُوا أَنْفُسَكُمْ (الحجر: 33) تم اپنے آپ کو بھی پاک نہ کہا کرو، اپنی ذات کو بھی پاک نہ ٹھہرایا کر و هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقُی (الحجر:33) ایک ہی ہے وہ جو جانتا ہے کہ کون متقی ہے۔پس بہت ہی باریک مضمون ہے الجھا ہوا دکھائی دیتا ہے مگر حقیقت میں الجھا ہوا نہیں۔اس کو میں کھول کر جب آپ کے سامنے رکھتا ہوں تو آپ کو ہمیشہ یہی محسوس ہوتا ہے کہ ہاں یہی بات ہمارے دل میں بھی ہونی چاہئے تھی یا تھی اور بات واضح ہو جاتی ہے۔تو اول تو یہ بات یا درکھیں کہ آپ اگر خود متقی ہوں تو آپ کا فیصلہ غلط بھی ہوگا تو اللہ اس کو ٹھیک کر دے گا۔لیکن یہ ضروری ہے کہ آپ نے اپنی ذات میں تقویٰ سے فیصلہ کیا ہو۔اس لئے آپ کو یہ ضمانت تو نہیں ہے کہ آپ کا ہر فیصلہ درست ہوگا ہرگز نہیں ہے۔کئی آدمی متقی بھی ہوتے ہیں لیکن دینی فرق اپنی جگہ ہیں۔متقی بھی ہوتے ہیں بھولے بھی ہوتے ہیں، کئی آدمی متقی بھی ہوتے ہیں اور صاحب فراست بھی ہوتے ہیں تو ان کا اپنا ذاتی معیار تقویٰ کے نور سے چمک اٹھتا ہے مگر اتنا ہی چمکتا ہے جتنا ان کا معیار ہے ،اس سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔