خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 25
خطبات طاہر جلد 14 25 خطبہ جمعہ 13 جنوری 1995ء اصلى الله وہ سب اخلاق جن پر وہ فائز تھے ان سب کو مکارم الاخلاق نہیں کہا جا سکتا تھا۔ آنحضرت ﷺ کا قدم جن اخلاق پر پڑا ہے ان میں سے ہر ایک، ایک چوٹی تھا۔ کوئی بھی ایسا خلق نہیں ہے جو اپنے دائرے میں چوٹی کا خلق نہ ہو ، وہاں سے حضرت محمد مصطفی ﷺ کی نبوت کا سفر شروع ہوتا ہے۔ پس آپ جب فرماتے ہیں اثقل من حسن الخلق کہ خدا کی میزان میں حسن خلق سے بہتر اور کوئی وزن دار چیز نہیں تو یہاں کسی ایسے خلق کا ذکر نہیں جو مذہب سے الگ خلق ہو بلکہ حقیقت میں مذہب ہی کی تعریف کی گئی ہے۔ مذہب اعلیٰ اخلاق سے پھوٹتا ہے اور اعلیٰ اخلاق کو مزید صیقل کرتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ خدا سے بندے کا تعلق قائم کراتا ہے اور خدا تعالیٰ کا کسی اپنے ایسے بندے سے تعلق قائم نہیں ہو سکتا جو بد خلق ہو۔ اس لئے روزمرہ کی زندگی میں جو لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہے تو بڑا نیک مگر بڑا بداخلاق یہ ہے تو ہے، یہ بالکل جھوٹی بات ہے یا وہ بداخلاق نہیں ہے یا وہ نیک نہیں ہے کیونکہ نیکی کے ساتھ بد خلقی چل ہی نہیں سکتی ۔ نیکی کا وسیع دائرہ اخلاق کے تمام دائرے پر حاوی ہوتا ہے اور بدخلقی اور نیکی کے اندر ایک تضاد پایا جاتا ہے جو اکٹھے نہیں رہ سکتے ۔ بعض لوگ کہتے ہیں جی نمازیں تو بہت پڑھتا ہے لیکن یہ یہ باتیں بھی ہیں۔ تو جو جو باتیں ہیں ان ان باتوں میں نمازوں کی نفی ہو گئی ہے۔ پس محض ظاہری دین پر عمل کرنا کافی نہیں جب تک کہ جس حصے پر عمل ہو رہا ہے اس حصے کے اخلاق بھی صیقل نہ ہو جائیں ۔ دین کے مختلف حصے ہیں اور ہر حصے کا کسی نہ کسی انسانی خلق سے ضرور تعلق ہے تو اگر کلیہ کوئی سو فیصدی حضرت اقدس محمد مصطفی الا اللہ کی پیروی نہیں کر سکتا تو کم سے کم اس راز کو سمجھ لے کہ اگر وہ سچا ہے اپنے خلق میں تو اتنا حصہ اس کا دین کا اور زیادہ روشن ہو جانا چاہئے اور اگر وہ دین میں سچا ہے تو یہ ناممکن ہے کہ اس کے دین کے سائے تلے بد خلقی پنپ رہی ہو۔ اس لئے جہاں جہاں بد خلقی ہے۔ وہاں بے دینی کی علامت ہے، وہاں اگر دہریت کی نہیں تو خدا پر ایمان میں نقص کی علامت ہے۔ پس اس طرح ہر انسان اپنی ذات کا تعارف خود حاصل کر سکتا ہے۔ کتنا بد خلق ہے اور کتنا دیندار ہے کسی اور حوالے کی ضرورت نہیں خود انسان اپنی ذات میں کھو کر مختلف موقعوں پر اپنے رد عمل کو دیکھے چھوٹی سی بات کے اوپر بعض دفعہ اتنے ہنگامے کھڑے کر دیئے جاتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں بعض دفعہ خاندان ٹوٹ جاتے ہیں بعض دفعہ اور بہت