خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 286
خطبات طاہر جلد 14 286 خطبہ جمعہ 21 اپریل 1995ء معنی اس کا یہ ہے کہ اپنی ذات کو، وہ جانتا ہے۔اس کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔اس کی ذات کے کمالات کو خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا۔تو حسن کا یہ ادراک جوخدا کو ہے یہ اس کو ہر دوسری چیز سے مستغنی کر دیتا ہے اور حسن اپنی ذات میں ہی مگن رہتا ہے اس کو کسی اور کی تعریف کی بھی ضرورت باقی نہیں رہتی۔پس اللہ تعالیٰ کے اندر جو یہ ایک عظیم الشان صفت ہے اپنی خوبیوں میں مگن ہو جانا، اپنی خوبیوں سے لطف اندوز ہونا، یہی نجابت کی تعریف ہے، یہی شرافت کی تعریف ہے۔اور اس کے بعد ان خوبیوں کو دکھا کر لطف میں اضافہ نہیں ہوا کرتا بلکہ لوگوں کو دیکھنے، تعریف کرنے ، پسند کرنے ، نا پسند کرنے سے یہ بالا ہو جاتی ہیں۔ایسی صورت میں سچا نیک وہ ہے جس کو دکھاوے سے کوئی غرض ہی باقی نہ رہے۔آنحضرت ﷺ کو اپنی کسی نیکی کے کسی قسم کے دکھاوے سے کوئی غرض ہی نہیں تھی۔کوئی اگر سمجھتا ہے تو اس کا اپنا فائدہ ہے اور اگر کوئی نہیں سمجھتا تو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا الله کبھی کوئی نقصان نہیں تھا۔اس لئے اپنی ذات کو ابھار کر دکھانے کی آپ کو ضرورت پیش نہیں آئی۔صرف ایک اس پہ اعتراض پیدا ہوتا ہے کہ پھر اللہ نے اپنی ذات کو کیوں دکھایا۔چنانچہ احادیث میں ملتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس حدیث کا حوالہ دیا ہے اپنے ایک ارشاد میں کنت کنزاً مخفياً فاحببت ان اعرف اور دوسری جگہ فرمایا کہ میں کن مخفی تھا، میں چھپا ہوا تھا مستور خزانہ تھا۔فاردت ان اعرف تو میں نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں ، دیکھا جاؤں اور اس کی کسی ذات کے دکھاوے سے تعلق نہیں کیونکہ خدانہ بھی دیکھا جاتا تو اس کے ذاتی لطف میں کوئی فرق نہیں ورنہ یہ کیوں کہا کہ میں مخفی خزانہ تھا مخفی ہوا ہی کیوں پھر ؟۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے ساتھ ہی ایک اور حدیث بھی رکھ دی جس کے الفاظ یہ ہیں کہ میں نے چاہا کہ میرا خلیفہ بنے تو میں نے آدم کو پیدا کر دیا تا کہ وہ خلیفہ بن جائے۔اردت میں نے ارادہ کیا یا چاہا ان استخلف “ کہ میں اپنا خلیفہ بناؤں فخلقت آدم پس میں نے آدم کو پیدا کیا تو دراصل اپنی ذات کی طرح کے ملتے جلتے وجود پیدا کرنا دکھاوے کی خاطر نہیں ہوا کرتے بلکہ احسان کا یہ بہترین انداز ہے۔اسی لئے رحمان سے ہر قسم کی تخلیق پھوٹی ہے۔اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ماں بچہ پیدا کرتی ہے تو اپنے جیسا پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے، اپنے جیسا وجود یعنی خود بخود کائنات میں