خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 281 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 281

خطبات طاہر جلد 14 281 خطبہ جمعہ 21 اپریل 1995ء بیمار ذات کے طور پر ، ایک کمزور ذات کے طور پر اس کے دل میں اترتا ہے حالانکہ خدا کی ذات میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔تو دراصل بعض تبدیلیاں جو ہمیں دکھائی دیتی ہیں وہ مخلوق کی تبدیلیوں کے نتیجے میں ہیں ان کے حوالے سے ہیں۔پس خدا کسی کو اچھا دکھائی دے رہا ہوتو اللہ فرماتا ہے میں اس کے لئے اچھا بن جاتا ہوں۔کوئی کسی کو برا دکھائی دے رہا ہو تو اس کے لئے فرماتا ہے کہ میں برا بن جاتا ہوں۔مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ کی ذات ہمارے تصور سے پیدا ہوتی ہے۔اب یہ ایک الگ مضمون ہے۔اس لئے ان باتوں کو سمجھتے وقت تمام باریک راہوں سے واقف ہونا ضروری ہے ورنہ انسان کسی مقام پر بھی ٹھوکر کھا سکتا ہے۔تصور میں ایک ذات بنائی جائے اور وہ تصور کی ذات بن کر اترے تو اس کے اندر کچھ بھی تبدیلیوں کی طاقت نہیں ہوتی لیکن اللہ تعالیٰ تصور کی پیداوار نہیں ہے بلکہ تصور کے مطابق سلوک فرماتا ہے۔یہ دو مختلف باتیں ہیں۔تو ذات وہی ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں خواہ اسے ہم اچھا سمجھیں خواہ برا سمجھیں، خواہ تھوڑا اچھا سمجھیں یا زیادہ اچھا سمجھیں ، ذات باری تعالیٰ میں کوئی تبدیلی نہیں لیکن ہمارا فانوس جو بدلتا ہے اس سے شمع کے رنگ بدلتے ہیں۔فانوس کا شیشہ جیسا ہو، جس طرح گردش کر رہا ہو، جس شکل کا وہ بنا ہوا ہو، اس قسم کی روشنی کے تاثرات سارے ایوان میں پھیل جاتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسن ظن کا تعلق انسان کی بھلائی اور بہبود کے لئے بے حد ضروری ہے اور اگر اس تعلق میں بدظنی پیدا ہو جائے تو واقعہ انسان بہت سی خوبیوں سے محروم رہ جاتا ہے۔اسی مضمون میں حضرت زکریا کی دعا کا قرآن میں ذکر ملتا ہے۔وہ دعا کرنے کے بعد ، عرض کرنے کے بعد کہ میں ایسا ہو گیا، میں ایسا ہو گیا بچے کی امید نہیں، مدتوں سے تیرے حضور دعا کر رہا ہوں۔پھر عرض کرتے ہیں وَلَمْ أَكُنْ بِدُعَابِكَ رَبِّ شَقِيًّا (مریم:۵) کہ اے میرے اللہ اتنی لمبی دعاؤں کے با وجود، با وجود اس کے کہ مجھے اپنے بچے کی کوئی ظاہری امید نہیں ، میں ایسا بد بخت نہیں کہ تجھ سے دعا کرتے ہوئے مایوس ہو جاؤں۔اب دیکھیں حسن ظن تھا جس نے اثر دکھایا ہے کہ اللہ فرماتا ہے کہ میرا بندہ مجھے سے بدظن نہیں ہو سکتا تو میں کیوں اس کے حسن ظن کو سچا نہ کر دکھاؤں۔چنانچہ بلا تاخیر خدا تعالیٰ ایک بیٹے کی خوش خبری دیتا ہے اور بیٹا بھی ایسا جس کے نام کی کوئی مثال اس سے پہلے دنیا