خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 282
خطبات طاہر جلد 14 282 خطبہ جمعہ 21 اپریل 1995ء نے نہ کبھی دیکھی نہ کبھی سنی اسمه یحیی (مریم: 8) اس کا نام خدا نے بیچی رکھا اور فرمایا ایسا نام ہے کہ جیسے تیری دعا بے مثل تھی ویسے یہ نام بھی بے مثل عطا کیا جارہا ہے۔تو اللہ تعالیٰ کے اوپر ظن رکھنا اور صحیح ظن رکھنا یہ دراصل حسن ظن رکھنے کے مترادف بات ہے، ایک ہی بات کے دو معنے ہیں۔کیونکہ اسماء حسنیٰ ہیں اس کے تمام اسماء حسین ہیں تمام صفات دلکش اور خوبصورت ہیں۔پس جب میں کہتا ہوں حسن ظن، تو یہ مراد نہیں ہے کہ ہم بعض دفعہ کسی آدمی پر وہ برا بھی ہو تو حسن ظن کر لیتے ہیں کہ اچھا ہو گا۔حسن ظن کے سوا کوئی ظن خدا پر ہو ہی نہیں سکتا اور اگر ہوگا تو پھر غلط ہوگا۔اس لئے اسماء حسنی نے بتادیا کہ صرف حسن ظن ہی اس پر چل سکتا ہے اور کوئی ظن اس پر چل ہی نہیں سکتا اور جب حسن ظن ہوگا تو اللہ اسی حسن اور اسی شان کے ساتھ آپ پر جلوہ گر ہوگا۔اسی طرح آپ سے حسن سلوک فرمائے گا اور جہاں ظن میں کبھی آگئی، اللہ سج تو نہیں ہوسکتا لیکن اس سے سلوک میں اسی حد تک فرق ڈال دیتا ہے اور یہ معنی ہے انا عند ظن عبدی بی کہ میں اپنے بندے کے ظن کے مطابق ہو جاتا ہوں۔اب اس سلسلے میں جہاں آگے بڑھنا، قریب ہونا ، دور ہٹنا، دوڑنا، ٹھہر نا یہ ساری مثالیں جو بیان فرمائی گئی ہیں ، یہ اس پس منظر میں سمجھیں تو آپ کے لئے کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہوگی۔آپ فرماتے ہیں جہاں بھی وہ میراذکر کرتا ہے میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں یعنی فاصلہ ہی کوئی نہیں ہے۔یہ جو بیان فرمایا ہے یہ ایک بہت ہی اہم حکمت کی بات ہے۔آئندہ حدیث کو سمجھنے کی چابی اس بات میں ہے۔اب آنحضرت ﷺ کی عارفانہ شان اس بات سے ظاہر ہوتی ہے جو بات بیان کرنا چاہتے تھے ہوسکتا تھا کہ کسی کو اس سے غلط فہمی ہو جائے اس لئے پہلے غلط نہی کے دروازے بند کئے ہیں پھر آگے چلے ہیں۔پہلے فرمایا کہ جب وہ میرا ذکر کرتا ہے یا درکھو میں ساتھ ہوتا ہوں۔میرے درمیان اور مخلوق کے درمیان کوئی فاصلہ ہے ہی نہیں۔لیکن اب جو فاصلے کی باتیں کروں گا تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں کہیں ہوں اور کہیں نہیں ہوں۔چنانچہ فرمایا میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔خدا کی قسم خدا تعالیٰ اپنے بندے کی تو بہ پر اتنا خوش ہوتا ہے کہ اتنا خوش وہ شخص بھی نہیں ہوتا جسے جنگل بیابان میں اپنی گمشدہ اونٹنی مل جائے۔اب آپ یہ دیکھیں کہ ” خوش ہوتا ہے“ کا حوالہ ایک ایسے وجود کے تعلق میں