خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 280 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 280

خطبات طاہر جلد 14 280 خطبہ جمعہ 21 اپریل 1995ء میں ان کا اطلاق کرتا ہے کہ اس کی بے ایمانی بڑھ جاتی ہے۔واللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا انفُسِقِينَ گمراہ اللہ کرتا تو ہے مگر صرف فاسقوں کو گمراہ کرتا ہے کیونکہ ان کے اندر بیماری پہلے سے موجود ہے۔اس لئے وہ بیماری اور زیادہ سنگین اور گہری ہو جاتی ہے جب وہ خدا کی کسی مثال کو نہ سمجھ سکے۔تو اللہ تعالیٰ نے جو مثلہ قرآن کریم میں بیان فرمائی ہیں یا حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے جو اسماء باری تعالیٰ کے مضمون پر مثالیں بیان فرمائی ہیں ان کو اس شان کے مطابق سمجھیں جوشان خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتی ہے اور خدا تعالیٰ کی ذات پر اطلاق پاسکتی ہے۔ورنہ آپ تضادات کی دنیا میں کھوئے جائیں گے اور خدا میں کوئی تضاد نہیں اور اگر خدا میں تضاد نہ ہو اور آپ کے ذہن میں خدا کی ذات میں تضاد ہوں تو اتنا ہی آپ خدا سے دور ہٹ جاتے ہیں اس لئے یہ مضمون بہت ہی اہمیت رکھتا ہے کہ آپ اللہ کی ذات کے متعلق اپنے خیالات کو تضادات سے پاک کریں چنانچہ اس کی مثال ایک میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا ! عن ابي هريرة رضي الله عنه عن رسول الله علم انه قال : قال الله عذوجل انا عند ظن عبدي بي وانا معه حيث يذكرني والله الله افرح بتوبته عبده من احدكم يجد ضالته بالفلاة ومن تقرب الى شبراً تقربت اليه ذراعا ومن تقرب الى ذراعا تقربت اليه باعا واذا اقبل الى يمشی اقبلت اليه اهرول (مسلم کتاب التوبه باب في الحض على التوبه) اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انا عند ظن عبدی بی میں اپنے بندے کے لئے اس کے ظن کے مطابق بن جاتا ہوں۔اس حدیث کا میں نے پہلے بھی ذکر کیا تھا اب دوسرے تعلق میں بھی اس حدیث کا ذکر کر رہا ہوں کہ اللہ اپنے بندے کے ظن کے مطابق ہو جاتا ہے۔پس ایک ہی مثال ہو وہ کئی قسم کے ظن پیدا کر سکتی ہے اگر اللہ کی ذات سے حسن کا تعلق ہے اور سچائی کا تعلق ہے تو اللہ اس بندے کے وجود میں ، اس کے تصور میں ، ایک حسین ذات کے طور پر جلوہ فرما تا ہے۔اگر وہ تصور ناقص ہے تو پھر ایک