خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 274 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 274

خطبات طاہر جلد 14 274 خطبہ جمعہ 21 اپریل 1995ء سب بہت ہی محظوظ ہورہے تھے۔تو ایک بچے نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے پوچھا کہ ابا آپ نہیں کرکٹ کھیلنے جائیں گے یا دیکھنے جائیں گے۔تو آپ نے فرمایا کہ بیٹا میں جو کرکٹ کھیل رہا ہوں وہ اور ہے، اس کی بات ہی اور ہے۔پس لعب خواہ فضول نہ بھی ہواگر اس سے بہتر مصارف انسان کے وقت کے ہوں تو وہ با معنی فائدہ مند کھیلیں بھی بالکل بے معنی اور بے حقیقت دکھائی دیتی ہیں، ان کے چہرے پہ کوئی نور نظر نہیں آتا۔تو اللہ تعالیٰ کی ذات سے متعلق قرآن کریم میں جو یہ گواہی ملتی ہے رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلاً سُبْحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ( آل عمران : 192) اس کا اس آیت سے تعلق ہے وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا العِبِينَ لاعب ہونے کی ہمیں ضرورت کیا ہے، ہم نے اس غرض سے تو نہیں پیدا کیا کہ اپنا وقت گزاریں۔لعب کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہیں ہوتا اور لعب کا تعلق اس ذات سے ہوتا ہے جو لعب میں مصروف ہو اور اس کی دلچسپی اپنی ذات میں کسی کمی کو پورا کرنے کی وجہ سے ہوتی ہے اور بہت سے دوسرے ایسے انسان کے مصارف ہیں جن کا تعلق گردو پیش بہت وسیع دائروں تک پھیل جاتا ہے لیکن لعب کا تعلق ہر شخص کی اپنی ذات سے تعلق ہے۔اب آپ کہیں کہ دیکھو جی کرکٹ کھیلتے ہیں تو لاکھوں آدمی دیکھ رہے ہوتے ہیں۔فٹ بال کا میچ ہوتا ہے تو لاکھوں یہاں بھی ٹیلی ویژن پر دیکھ رہے ہیں ان کے ساتھ تو سب کا تعلق ہے۔مگر امر واقعہ یہ ہے کہ ہر ایک کا اپنی ذات کا لعب کا تعلق ہے۔ہر اس شخص کا تعلق ہے جس کے وقت میں اس وقت کوئی اور بہتر چیز موجود نہیں ہے اس لئے خواہ کروڑوں بھی ہوں اور وہ کھیل نہ بھی کھیل رہے ہوں تب بھی اس کو دیکھنے کا بھی اس بنیادی فلسفے سے گہرا تعلق ہے کہ اگر وقت کا بہتر مصرف ہے تو ٹھیک ہے ورنہ پھر چلو کرکٹ کی کمنٹری سن لیتے ہیں یا فٹ بال کا میچ دیکھ لیتے ہیں، خود نہیں دیکھ سکتے تو ریڈیو ٹیلی ویژن کے ذریعے دیکھ لیں۔تو یہ ساری دلچسپیاں وقت کے دوسرے اعلیٰ مصارف کے نہ ہونے کے نتیجے میں ہیں۔دوسرا پہلو یہ ہے کہ جو بھی خدا کرتا ہے اس پر خوشی محسوس کرتا ہے یا تکلیف محسوس کرتا ہے یا غم محسوس کرتا ہے تو کن معنوں میں اور اگر وہ اچھی باتیں بھی ہیں لعب کے علاوہ بہت ہی اعلیٰ درجے کی مصروفیات ہیں تو سوال یہ ہے کہ ان مصروفیات کا خدا کی ذات میں ہنگامہ پیدا کرنے سے کیا تعلق ہے۔زیر و بم پیدا نہ ہوں تو ہم خوشی محسوس نہیں کرتے ، زیر و بم پیدا نہ ہوں تو ہم غمی محسوس نہیں