خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 22
خطبات طاہر جلد 14 22 22 خطبہ جمعہ 13 جنوری 1995ء خدا کے تول میں کوئی چیز اچھے اخلاق سے زیادہ وزن نہیں رکھتی۔یعنی اللہ تعالیٰ نے جو میزان مقرر کر رکھے ہیں جن میں بندوں کا حساب کیا جائے گا ان میں سے زیادہ وزنی چیز اچھے اخلاق ہوں گے تو دین کا ما حصل اخلاق ہیں اور اعلیٰ اخلاق سے دین کا فیصلہ ہوگا کہ کسی کا دین کیسا ہے۔اس کی روشنی میں ایک بات تو قطعی طور پر ثابت ہوئی کہ اخلاق کو دین سے الگ نہیں کیا جا سکتا بلکہ اخلاق دین کا پیمانہ بنتے ہیں۔خدا کے نزدیک کسی کے دین کے سچا ہونے یا اچھا ہونے کی علامت اس کے اخلاق ہوں گے۔اگر اخلاق برے ہوں گے تو اس کا دین برا ہے یا وہ دین کے معاملے میں برا ہے۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے اپنے متعلق فرمایا بعثت لاتمم مکارم الاخلاق (سنن الکبری کتاب جز ۱۹۱) کہ میں مکارم اخلاق پر مبعوث کیا گیا ہوں۔اب یہ حدیث بہت ہی گہری حدیث ہے اور اس کا مطلب یہ کہ میری بعثت وہاں ہوئی جہاں اخلاق اپنے انتہا کو پہنچتے ہیں وہاں سے میں مضمون کو بڑھا کر آگے لے کے جاتا ہوں اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں اعلیٰ اخلاق کے ساتھ پیدا کیا گیا ہوں۔بعثت لاتمم علیٰ مکارم الاخلاق کا مطلب یہ ہے کہ جہاں اعلیٰ اخلاق اپنی انتہا کو پہنچے وہاں میرا قدم تھا اور وہاں سے میں نے پھر معاملے کو آگے بڑھایا ہے۔یہ مفہوم قرآن کریم کی اس آیت کی تائید میں ہے یا قرآن کریم کی یہ آیت اس پر روشنی ڈالتی ہے هُدًى لِلْمُتَّقِينَ کہ یہ کتاب اور صاحب کتاب بھی لازماً اس میں داخل ہو جاتا ہے متقیوں کو ہدایت دینے والی ہے تو آنحضرت ﷺ کا جو یہ ارشاد ہے کہ میں مکارم الاخلاق پر فائز فرمایا گیا ہوں یا وہاں سے میری بعثت شروع ہوئی ہے۔اس نے اس مسئلے کو حل کر دیا جو دین اور دنیا کے اخلاق کے درمیان فاصلہ دکھائی دیتا تھا۔امر واقعہ یہ ہے کہ دنیا کے خلق اگر کامل ہوں اور اچھے ہوں تو لازماً ان کے نتیجے میں مذہب پیدا ہوتا ہے اور مذہب اعلیٰ خلق کی بنیاد پر ہی قائم ہوتا ہے اس کے بغیر نہیں ہوسکتا۔یہ بہت اہم اور گہرا مسئلہ ہے کہ سچا خلق وہ ہے جس کے نتیجے میں مذہب پیدا ہو اور کوئی مذہب سچا نہیں جس کی بنیا داعلیٰ اخلاق پر نہ ہو۔آنحضرت ﷺ کی زندگی کے حالات تو ہمیں معلوم ہیں بہت کثرت کے ساتھ روایات میں آپ کی نبوت سے پہلے کے اخلاق بھی محفوظ کر دئیے گئے ہیں لیکن دیگر انبیاء جن کے حالات ہمیں