خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 264
خطبات طاہر جلد 14 264 خطبہ جمعہ 14 اپریل 1995ء گھبراہٹ نہیں ہے۔اور اللہ کے فضل کے ساتھ شہید کی بیوہ سے بھی فون پر ان کی بات ہوئی ہے، خدا کے فضل سے حوصلے میں ہیں اور اس بات پر مطمئن ہو ئیں کہ میری ان کے بھائی سے فون پر بات ہوئی ہے۔ان کے چار بچے ہیں ان میں سے ایک بچی چھوٹی ہے۔اس چھوٹی بچی کے متعلق یہ کچھ دن سے کہہ رہے تھے۔وہ ان کو بہت پیاری تھی ، کچھ دن سے کہہ رہے تھے کہ اور تو سب آسان ہے مگر اس کو چھوڑ نا مشکل ہے۔اب یہ بات چھوٹی سی ہے لیکن اس سے دو نتیجے میں نے نکالے ہیں جو میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ایک تو یہ کہ جو پیچھے رہ جاتے ہیں ان کا فکر ضرور شہیدوں کی روحوں کو دامن گیر ہوسکتا ہے اور اسی لئے وہ آیات جن کی میں نے تلاوت کی ہے اس میں اس بات کا جواب دیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَرِحِينَ بِمَا أَنهُمُ اللهُ مِنْ فَضْلِیہ وہ بہت خوش ہیں اس سے جو اللہ نے ان کو اپنے فضل سے عطا کیا لیکن ساتھ ہی وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِ ہم ان کے متعلق بھی اللہ ان کو خوشخبریاں دے رہا ہے یعنی خوشخبریاں پا رہے ہیں جو ان سے ابھی نہیں ملے، ان سے ملے نہیں ہیں یعنی بعد میں ان کی وفات جیسے بھی خدا کے ہاں مقدر ہو ہونے والی ہوگی ، کچھ عرصے کے بعد ان سے آملیں گے لیکن ان کے متعلق اللہ ان کو تسلیاں دے رہا ہے کہ الَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَاهُمْ يَحْزَنُونَ کہ ان پر کوئی خوف نہیں ہوگا کسی خوف سے وہ مرعوب نہیں ہوں گے وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ اور غم کی حالت میں خدا ان کو سکتے نہیں چھوڑے گا بلکہ ان کو غموں پہ حوصلہ عطا فرمائے گا یعنی لَا هُمْ يَحْزَنُونَ کا مطلب ہے غم سے مغلوب نہیں ہوں گے۔يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللهِ وَفَضْلٍ اور وہ خدا سے نعمت اور فضل کی خوشخبریاں پارہے ہیں۔پس ایک تو اس آیت کا ایک مفہوم اس واقعہ سے سمجھ آیا کہ خدا تعالیٰ یہ کیوں فرماتا ہے کہ شہیدوں کو ان کے پیچھے رہنے والوں کے متعلق خوشخبریاں دی جائیں گی۔جب ریاض شہید کی یہ بات مجھے پہنچی تو اس وقت میں سمجھا، دراصل بعض لوگوں کو چھوڑ نا بڑا مشکل ہوتا ہے اور ان کے متعلق اللہ تعالی لازماً آخرت میں، اپنی دوسری دنیا میں یعنی روحانی زندگی میں ان کو خوشخبریاں دے گا کہ فکر نہ کرو ہم تمہارے بھی مالک اور والی تھے ، ان کے بھی مالک اور والی ہیں اور ان کے متعلق ان کو اطمینان دلاتے ہیں۔پس شہید کے پسماندگان کے لئے قرآن کریم میں یہ خوشخبری پہلے سے موجود ہے۔پس