خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 260 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 260

خطبات طاہر جلد 14 260 خطبہ جمعہ 14 / اپریل 1995ء قربانی دی جائے جیسا عید الاضحی کے موقع پر کرتے ہیں۔تو پہلے میں نے کمزور کو پکڑا تو میرے والد ڈاکٹر منظور احمد نے کہا کہ یہ کمزور ہے۔( یہ ہمارے جو باڈی گارڈ ہوا کرتے تھے محمود احمد خان صاحب، ان کے والد ہیں منظور خان جو رشید احمد خان کے بڑے بھائی ہیں ) تو انہوں نے کہا کہ اس کو چھوڑ دو دوسرے طاقتور کی قربانی دو۔تو میں نے طاقتور بیل کو پکڑا ، گرایا اور قربان کر دیا۔اب یہاں بھی دو کا مضمون ہے وہ اسی طرح چل رہا ہے ساتھ۔دو بکریاں، دو بیل اور پھر کمزور کو چھوڑ دیں جو بوڑھے تھے اور کمزور تھے اور طاقتور کو پکڑ لو جو نو جوان ان کے داماد تھے۔یہ ساری باتیں بتا رہی ہیں کہ کوئی اتفاقات نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر پہلے سے فیصلہ شدہ تھی اور وہ جس طرح ظاہر ہوئی ہے یہ اس کے واقعات ہیں جو اللہ تعالیٰ نے رویا میں پہلے بتا کر ان کے اقرباء کی تسلی کے سامان کئے۔ڈاکٹر رشید احمد خان صاحب کو ان کے داماد کی شہادت کی اطلاع نہیں دی گئی ان کی اپنی حالت بھی نازک تھی۔ہمارے عزیز ڈاکٹر مبشر احمد کا فیکس مجھے ملا ہے کہ وہ اس وقت ربوہ میں ہیں اور خاص حفاظت کے وارڈ میں ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے کوئی خطرہ ان کو نہیں ہے اس وقت اور جو پسلیاں ٹوٹی ہیں اور جو کہنی کی ہڈی ٹوٹی ہے اس کا وہ علاج کر رہے ہیں۔تو ان کو چونکہ بتایا نہیں گیا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی رویا میں ہی اطلاع دی اور وہ رویا انہوں نے یہ دیکھی کہ ایک چھوٹا جہاز ہے جسے وہ خود اڑا رہے ہیں۔آگے وہ ایک انتہائی سفید کمروں والی جگہ میں پہنچتے ہیں جس کے آخر میں نہایت خوبصورت سفید رنگ کا صوفہ بچھا ہے جس پر ریاض احمد شہید بیٹھنے کے لئے چلے گئے اور صوفے پر براجمان ہو جاتے ہیں۔مگر ڈاکٹر صاحب کو روک دیا گیا اور کہا گیا کہ جنت کا آخری مقام ہے جہاں تم نہیں جا سکتے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے داماد کو ایک اعلیٰ فضیلت کا مقام خدا تعالیٰ کی طرف سے عطا فرمایا گیا ہے جو ان کے لئے مقدر نہیں تھا اس لئے ان کی شہادت نہیں ہوئی۔یہ اللہ کی مرضی ہے اس کا اپنا فضل ہے جسے چاہے دے، جس طرح چاہے دے۔یہ تو اس شہادت کے تذکرے ہیں۔اب میں ضمناً آپ سے یہ عرض کرتا ہوں کہ حضرت صاحبزادہ عبداللطیف شہید کی شہادت کے خون کا آج تک یہ قوم اس کی قیمت ادا کر رہی ہے اور اب تک اس خون کے داغ دھل نہیں سکے۔مسلسل افغانستان پر ایک بلا کے بعد دوسری بلا نازل ہوتی ہے جوان کی شہادت کے بعد سے شروع ہوئی اور یہ سلسلہ آج تک ختم نہیں ہوسکا۔فیض نے کہا ہے: